تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 110

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1941ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم نہیں رہا، اس لئے میں نے یہ دو ٹکٹ خرید لئے تھے۔ان کے خریدے ہوئے ٹکٹ ضائع ہی ہو گئے ، کیونکہ چوہدری صاحب نے ہمارا کرایہ ادا کر دیا تھا۔مگر اس دوست کی یہ بات مجھے بہت پسند آئی کہ انہوں نے یہ بھی گوارہ نہ کیا کہ مجھ سے بھولے سے بھی بغیر ٹکٹ کے سفر کرنے کی غلطی ہو۔یہ احمدیت کا سچا نمونہ ہے اور یہی نمونہ ہمارے نو جوانوں کو پیش کرنا چاہئے۔پس اچھی طرح یا درکھو کہ کبھی بغیر ٹکٹ کے سفر نہ کرو اور کبھی کسی کو بغیر ٹکٹ کے سفر کرتا دیکھ کر خاموش نہ رہو بلکہ اسے نصیحت کرو اور اگر وہ نصیحت پر بھی عمل نہ کرے تو سمجھ لو کہ وہ بیمار ہے اور متعدی بیماری ہے، ایسے لڑکے کی محبت سے الگ رہو۔اگر تم اسے دوست کہتے ہو تو گویا اپنی بھی بنک کرتے ہو اور اس کے معنی یہ ہیں کہ تم اس کے فعل کو پسند کرتے ہو۔پھر آپس میں ہمدردی کرو اور دوسروں سے بھی ہمدردی کرو۔اگر گاڑی میں کوئی بوڑھا آجائے تو اس کیلئے قربانی کا نمونہ دکھاؤ، خود کھڑے ہو جاؤ اور اسے بیٹھنے دو، اگر اسے پانی کی ضرورت ہو تو لا دو، بیمار ہو تو اسے دبا وہ ممکن ہو تو دوائی بھی لا دو۔غرضیکہ ایسا نمونہ دکھاتے جاؤ اور دکھاتے آؤ کہ سب دیکھنے والے کہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھوں میں اگر طاقت آجائے تو دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔خوب یا درکھو یہ دنیا میں امن قربانی سے قائم ہوتا ہے، زور اور طاقت سے نہیں۔پس جتنی زیادہ قربانی تم کرو گے، اتنی ہی جلدی خدا تعالیٰ تمہارے ہاتھوں میں دنیا کی باگ دے گا اور اتنی ہی جلدی تم دنیا میں امن قائم کر سکو گے۔ستی کی عادت نہ ڈالو اور کبھی یہ نہ سمجھو کہ اب چھٹیاں ہوئی ہیں ، خوب سوئیں گے۔چھٹیاں سونے کیلئے نہیں ہوتیں بلکہ اس لئے ہوتی ہیں کہ استاد نیا سبق نہ پڑھائے اور طالب علم پچھلا پڑھا ہوا یا د کر لیں۔پس یہ نہ کہو کہ چھٹیوں میں سوئیں گے بلکہ یہ کہو کہ پہلے جو غفلت ہوتی رہی ہے، اب چھٹیوں میں اس کا ازالہ کریں گے اور سبق اچھی طرح یاد کریں گے۔سکول میں تو مدرس روز نیا سبق دے دیتا ہے اور اسے یاد کرنا ہوتا ہے، اس لئے اگر کوئی سبق یاد کرنے سے رہ جائے تو کمزوری رہ جاتی ہے اور چھٹیاں ان کمزوریوں کو دور کرنے کا بہترین موقع ہوتی ہیں۔سچائی کا بھی اعلیٰ نمونہ دکھاؤ۔جو کہو، سچ کہو۔یہ ضروری نہیں کہ ہر بات ضرور کہو۔مثلا کوئی کہے کہ میں نے فلاں شخص کو کھانا کہا تھا، کیونکہ یہ سچی بات ہے اور بیچ بولنے کا حکم ہے تو یہ درست نہ ہوگا۔ہر کچی بات کا کہنا ضروری نہیں ہوتا۔حکم یہ ہے کہ جو کہو، سچ کہو۔شریعت تمہیں یہ نہیں کہتی کہ ہر کچھی بات ضرور 110