تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 101

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1941ء ایک مرتبہ اسلامی لشکر شام میں آرمینا کے کنارے پر عیسائیوں سے سخت جنگ لڑ رہا تھا۔بڑی لمبی جنگ کے بعد مسلمانوں کو یہ معلوم ہوا کہ کل ہم فتح حاصل کر لیں گے۔عیسائیوں کو بھی جو محصور تھے یہ سمجھ آگئی کہ اب مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان کی مقابلہ و مقاومت کی آخری کوشش بھی نا کام ہو چکی ہے اور اب مسلمانوں کی فتح کے راستہ میں کوئی روک نہیں اور وہ کل تک ضرور فتح پالیں گے۔ایک مسلمان حبشی غلام چشمہ سے پانی بھر رہا تھا۔عیسائیوں کا ایک افسر اس کے پاس آیا اور کہا کہ لو، میاں! اگر ہم قلعہ چھوڑ دیں تو بتاؤ کن شرطوں پر صلح کر لو گے؟ اگر تم یہ یہ باتیں مان لو تو ہم ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔بتاؤ کیا یہ شرائط منظور ہیں؟ وہ بیچارہ ان پڑھ آدمی تھا۔اس نے سمجھا کہ یہ باتیں منظور ہی ہوں گی۔جب لڑائی ختم ہو رہی ہے تو ان کے ماننے میں کیا حرج ہے؟ اور اس لئے اس نے کہ دیا، ہاں منظور ہیں۔اس پر عیسائیوں نے اعلان کر دیا کہ مسلمانوں کے ساتھ صلح ہوگئی ہے اور دروازے کھول دیئے۔جب اسلامی جرنیل پہنچے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کوئی صلح کی نہیں۔تم لوگوں نے کس کے ساتھ صلح کی ہے؟ عیسائیوں نے جواب دیا کہ فلاں حبشی نے ہم سے معاہدہ کیا ہے۔مسلمان افسروں نے کہا کہ وہ کوئی افسر نہ تھا اور اسے صلح کی شرائط طے کرنے کا کوئی اختیار نہ تھا۔عیسائیوں نے جواب دیا کہ ہمیں کیا علم تمہارا کون افسر ہے اور کون نہیں؟ ہم سے معاہدہ ہو چکا ہے اور اب تم لوگوں کو اس کی پابندی کرنی چاہئے۔اسلامی سپہ سالار نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سارے واقعہ کی اطلاع دے دی اور لکھا کہ یہ عجیب واقعہ ہوا ہے۔عیسائیوں نے ہمارے ساتھ چالا کی کی ہے اور ایک حبشی سے بات چیت کر کے دروازے کھول دیئے ہیں۔اب ہم حیران ہیں۔نہ ان کی شرطوں کو مان سکتے ہیں، نہ لڑائی کر سکتے ہیں۔شرطیں ایسی ہیں جو ہمارے لئے قابل تسلیم نہیں۔سارا معاملہ آپ کو پیش کیا جاتا ہے۔آپ اجازت دیں کہ ہم اس ملک پر اسی طرح قبضہ کریں۔جس طرح ایک فاتح قبضہ کرتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ آپ نے جو کچھ لکھا، درست ہے۔بیشک مسلمانوں نے سخت جنگ کی اور اس ملک کو فتح کیا اور بے شک عیسائیوں نے دھو کہ کیا۔مگر میں تمہاری رائے کو تسلیم کر کے اسی طرح ملک پر قبضہ کرنے کی اجازت دے دوں جس طرح فاتح قبضہ کرتا ہے تو لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں کے قول کا کوئی اعتبار نہیں۔وہ حبشی بہر حال مسلمان ہے اور میں اس کی بات کو جھوٹا نہیں کر سکتا۔اس کے منظور کردہ شرائط کے مطابق ہی عیسائیوں سے صلح کی جائے۔اگر حضرت عمر چاہتے تو اس معاہدہ کو رد کر سکتے تھے اور اس صورت میں دنیا کی کوئی قوم آپ پر اعتراض نہ کر سکتی تھی۔کیونکہ عیسائیوں نے جو کچھ کیا وہ سراسر دھو کہ تھا مگر پھر بھی آپ نے اسے قبول کر لیا فرمایا میں نہیں چاہتا کہ لوگ کہیں کہ مسلمان کی بات جھوٹی ہوگئی اور کہ مسلمانوں میں ایک حبشی کی بات قابل اعتبار نہیں اور عرب کی ہے۔101