تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 71
ٹریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعہ فرمودہ 24 جنوری 1941ء حي على الصلوہ اے میرے بندو میری عبادت کے لئے آؤ۔اور تمہارا نفس تمہیں کہ رہا ہوتا ہے کہ اور دوگا ہک دیکھ لوں، اور چند پیسے کمالوں۔اور بعض دفعہ تو یہ بھی کہنے لگ جاتا ہے کہ مسجد میں جا کر نماز کیا پڑھنی ہے؟ اسی جگہ پڑھ لیں گے۔بلکہ کئی دفعہ واقعہ میں تم مسجد میں نہیں آتے اور گھر پر یا دوکان پر ہی نماز پڑھ لیتے ہو تو تم سمجھ لو کہ پانچ وقت خدا نے تمہارا امتحان لیا اور پانچوں وقت تم فیل ہو گئے۔مجھے خوشی ہے کہ جب سے خدام الاحمدیہ نے کام شروع کیا ہے، جماعت میں بہت حد تک نماز باجماعت ادا کرنے کی رغبت پیدا ہو چکی ہے۔مگر ابھی ایک طبقہ ایسا ہے جس کے دل میں یہ رغبت پیدا نہیں ہوئی۔اور ابھی ایک طبقہ ایسا ہے جو نمازیں باجماعت ادا کرنے میں، جو فوج کی حاضری کے برابر ہے، ستی اور غفلت سے کام لیتا ہے۔جو لوگ صرف خدام الاحمدیہ کے نظام کے ماتحت باجماعت نمازیں ادا کرتے ہیں ، میں ان سے کہتا ہوں کہ تم اپنے اندر ایسا ایمان پیدا کرو کہ اگر دنیا کی سطح سے خدام الاحمدیہ کا وجود مٹ جائے ، تب بھی تم نماز با جماعت ادا کرنے میں کبھی غفلت سے کام نہ لو۔اور جولوگ اس فریضہ کی ادا ئیگی میں کوتاہی سے کام لینے کے عادی ہیں۔ان سے میں کہتا ہوں کہ روزانہ پانچ وقت خدا تعالیٰ تمہارا امتحان لیتا ہے۔اگر تم بغیر کسی معقول عذر کے باجماعت نماز میں ادا کرنے میں سستی سے کام لیتے ہو اور اگر تمہارے دنیوی مشاغل اس فریضہ کی ادائیگی میں روک بنتے ہیں۔تو تم سمجھ لو کہ کس طرح تم روزانہ پانچ وقت اپنی شکست اور ایمان کی کمزوری کا اقرار کرتے ہو۔ہر مومن جو پانچ وقت تمہارے گھر کے دروازے یا دوکان کے قریب سے نماز کے لئے گزرتا ہے اور تمہیں نماز کے لئے اٹھتے نہیں دیکھتا۔وہ اس یقین اور وثوق سے تمہارے گھر یا دوکان کے پاس سے گزرتا ہے کہ یہاں ایک منافق رہتا ہے۔جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منافق قرار دیا ہے۔تم بعض دفعہ جب تمہیں کوئی منافق کہتا ہے تو اس سے لڑ پڑتے ہو۔مگر تمہیں خود ہی سوچنا چاہیے کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منافق کہنے سے تم نہیں گھبراتے ، تو ہمارے منافق کہنے سے تم کیوں گھبراتے ہو؟ اس سے تو معلوم ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر تمہارے دلوں میں کچھ نہیں مگر ہماری قدرتمہارے دلوں میں ہے۔کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منافق کہنے کی تو تمہیں کوئی پروا نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی اور معمولی حیثیت کا آدمی تمہیں منافق کہتا ہے تو تمہارے تن بدن میں ایک آگ سی لگ جاتی ہے اور کہنے لگ جاتے ہو کہ وہ بڑا جھوٹا ہے۔دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت تمہارے دلوں میں اس ادنی آدمی کی حیثیت سے بھی کم ہے۔کیونکہ جس کی وقعت انسانی قلب میں ہوتی ہے، اسی کی ناراضگی 71