تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 724 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 724

خطبہ جمعہ فرمودہ 12 اپریل 1946ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم زیادہ تمہارے لئے ترقی کے دروازے کھلے ہیں اور خدا نے تمہیں اپنے فضل سے ایک بہت بڑا قیمتی موقع عطا فرمایا ہے۔اب تمہارا فرض ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ اور ترقی کے سامانوں سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو۔پھر آپ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کا پیغام تم کو پہنچا چکا ہوں۔کیا تم میں سے کوئی سعید روح ہے، جو آپ آگے بڑھے اور اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہے۔وہ لوگ جو اپنے دلوں میں یہی سوچ رہے تھے، کھانا کب تقسیم ہوتا ہے، بلاوجہ ہمارا وقت کیوں ضائع کیا جا رہا ہے؟ وہ اس بات کا کیا جواب دے سکتے تھے؟ وہ خاموش رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو دفعہ پھر پوچھا۔مگر جب کسی نے جواب نہ دیا تو حضرت علی، جو اس وقت گیارہ برس کے بچے تھے، کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ میں حاضر ہوں۔تو حقیقت یہ ہے کہ ایمان بچے اور بڑے میں کوئی فرق نہیں کیا کرتا۔بہت سے نوجوان صحابہ میں ایسے پائے جاتے ہیں، جن کے ماں باپ ان کے شدید ترین مخالف تھے۔وہ بارہ بارہ، چودہ چودہ اور پندرہ پندرہ سالوں کی عمر کے تھے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا اور جب انہوں نے دیکھا کہ ہمارے ماں باپ ہمیں اس مذہب میں شامل ہونے سے روک رہے ہیں تو انہوں نے اپنی ماؤں کو چھوڑ دیا ، اپنے باپوں کو چھوڑ دیا اور غریب الوطنی کی زندگی بسر کی۔اس کے بعد بھی جب انہوں نے دیکھا کہ ابھی تک ہمارے ماں باپ کی اس دشمنی میں کوئی کمی نہیں آئی، جو وہ اسلام سے رکھتے ہیں تو انہوں نے اپنے ماں باپ کی شکلیں تک دیکھنا گوارا نہ کیا۔وہ گئے اور انہوں نے اسلام کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔پس یہ تحریک صرف بڑوں کے لئے نہیں، بچے بھی اس تحریک کے مخاطب ہیں۔اگر ماں باپ اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کرنے کو تیار نہیں اور بچوں کے دلوں میں ذاتی طور پر یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قربان کر دیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ اے ہمارے باپ ! اے ہماری ماں ! آپ ہمیں دین کی تعلیم کے لئے آزاد کر دیں۔ہمیں دنیوی کاموں پر لگانے کا ارادہ آپ ترک کر دیں اور دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیں۔اور اگر بچوں میں یہ تحریک پیدا نہ ہو تو ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ خود اپنے بچوں پر زور ڈالیں اور انہیں کہیں کہ دنیوی تعلیم کو چھوڑو اور خدا کے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرو۔کیا پستہ کہ تم اپنی تعلیم کے مکمل ہونے تک زندہ بھی رہتے ہو یا نہیں ؟ مگر یہ وہ تعلیم ہے کہ اگر اس تعلیم کے حصول کے دوران میں بھی تم مرگئے تو تم مجاہد کہلاؤ گے۔ایک شخص جو مدرسہ ہائی یاتعلیم الاسلام کالج میں پڑھتا ہے، 724