تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 634

خطبہ جمعہ فرمودہ 02 نومبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم کے سیکھنے کے لئے ایک لمبے عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام کے متعلق فرماتے ہیں کہ الدین یسر یہ دین بڑا آسان بنایا گیا ہے۔اگر چہ اس میں بڑی بڑی باریکیاں بھی ہیں لیکن یہ اتنا سیدھا سادہ اور آسان ہے کہ ہر آدمی اس کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے اور اتنا مؤثر ہے کہ سننے والوں کے دلوں کو موہتا چلا جاتا ہے۔اصل میں اب جن کے پاس دین رہ گیا ہے، وہ غریب ہی ہیں۔کیونکہ امیروں نے غریبوں کو لوٹ لیا ہے اور ان میں سے اکثر ایسے ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس اب اللہ ہی اللہ رہ گیا ہے۔وہ اسے لینے کے لئے دوڑتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ بھی ہاتھ سے نہ چلا جائے۔پہلے غریب ہی صداقت کی طرف آیا کرتے ہیں اور تعلیم سے محروم بھی غریب ہی ہوتے ہیں۔اس لئے مختلف جگہوں پر کام کرنے کے لئے اگر ان پڑھ مل سکیں تو پروا نہیں کرنی چاہئے۔مگر ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جوش رکھنے والے ہوں اور ان میں اخلاص اور تقوی ہو۔ایک دو کو بلا کر انہیں زبانی تعلیم دلائی جائے اور اگر ہو سکے تو انہیں اردو لکھنا پڑھنا سکھا دیا جائے تاکہ مسائل سیکھنے کے لئے اخبارات اور دوسرے رسالے پڑھ سکیں اور اس طرح اپنا کام چلا لیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تبلیغ کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ عالم ہوں۔مگر سوال یہ ہے کہ جو چیز پوری نہ مل سکتی ہو، وہ تمام کی تمام چھوڑ دینی بھی تو ٹھیک نہیں؟ عربی میں محاورہ ہے مالا یدرک کله لا یترک کله۔جب ساری چیز ندیل سکتی ہو تو ساری چیز چھوڑ بھی نہیں دینی چاہیے۔ہمارے ملک کے پنجابیوں نے تو اس سے بھی زیادہ کہہ دیا ہے کہ " جاندے چور دی لنگوٹی ہی سہی۔یعنی اگر چور بھاگ جاتا ہے اور تم مسروقہ مال میں سے اس سے کچھ نہیں چھین سکتے تو اگر تم نے اس کی لنگوٹی ہی چھین لی ہے تو کچھ نہ کچھ تو حاصل ہو گیا۔پس ضروری نہیں کہ جب تک بڑے بڑے عالم نہ ہوں تبلیغ کا کام شروع نہ کیا جائے۔تھوڑے سے مسائل سکھا کر ایک رو چلا دینی چاہئے۔ہاں یاد آ گیا کہ چھوٹی زبانوں میں سے ایک زبان کشمیری رہ گئی تھی۔کشمیری زبان بھی چالیس، پچاس لاکھ کے قریب لوگوں میں سمجھی جاتی ہے۔گوکشمیر میں ہمارے ایک، دو مبلغ موجود ہیں مگر اس علاقہ میں بھی اور بہت سے مبلغوں کی ضرورت ہے۔دفتر دعوت کو چاہئے کہ وہ مختلف زبانوں کے مراکز سے خط و کتابت کرے اور احمدی جماعتوں کو تحریک کرے کہ وہ ہر زبان بولنے والے ایک یا دو آدمی دیں ، خواہ وہ ان پڑھ ہی ہوں۔تا کہ اس کام کو شروع کیا جاسکے۔پس ایک تو یہ کام نہایت ضروری ہے۔دوسرے یہ بھی ضروری ہے کہ تمام ہندوستان میں ایک نظام کے ماتحت جلسے کرائے جائیں اور ان میں مختلف مضامین پر لیکچر دلائے جائیں۔میں نے دیکھا ہے 634