تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 426

خطبہ جمعہ فرموده 10 نومبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اسی طرح وہ لوگ ، جو انفرادی طور پر اس تحریک میں حصہ لینا چاہتے تھے، انہوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ آپ کی طرف سے جو تقسیم کی گئی ہے، اس میں ہمارا کوئی حصہ نہیں رکھا گیا۔مثلاً ہماری جماعت کے وہ دوست جو فوج میں بھرتی ہو کر گئے ہیں، ان میں سے بعض کے مجھے خطوط آئے ہیں کہ ہمیں کسی گروہ میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔حالانکہ ہم بھی اس تحریک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اسی طرح بعض اضلاع ایسے ہیں، جن کو ریز رو کے طور پر رکھا گیا تھا۔ممکن ہے ان کے دلوں میں بھی اس تقسیم کے متعلق کوئی اعتراض پیدا ہو۔انہی اعتراضات میں سے ایک اعتراض ان افراد کی طرف سے بھی آیا ہے، جو براہ راست مرکز میں اپنا چندہ بھجوایا کرتے ہیں کہ اس تحریک میں بڑی بڑی جماعتیں تو شامل کر لی گئیں ہیں لیکن وہ افراد جو براہ راست اپنا چندہ قادیان بھیجا کرتے تھے، رہ گئے ہیں اور ان کو اس تحریک میں شمولیت کا کوئی حق نہیں دیا گیا۔غرض مختلف جماعتوں اور مختلف افراد کی طرف سے اس بارہ میں مجھے خطوط پہنچ رہے ہیں اور بعض خطوط میں تو اس قسم کے اضطراب کا اظہار کیا گیا ہے اور اس قدرقلق اور گھبراہٹ کا ان خطوط سے پتہ چلتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے ہماری جماعت کے ان دوستوں کو جنہیں اس ثواب میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا، سخت تکلیف ہو رہی ہے اور ان کے لئے یہ امر انتہائی کرب اور دکھ کا موجب ہوا ہے۔جس دوست نے یہ لکھا ہے کہ بعض حصے بلا طلب کرنے کے بعض کو زائد طور پر دے دیئے گئے ہیں۔جیسے لجنہ اماءاللہ ہے کہ اسے بجائے ایک حصہ کے دو حصے دے دیئے گئے ہیں۔میں نے اس دوست کے اس سوال پر غور کیا ہے اور مجھے اس کی یہ بات معقول معلوم ہوئی ہے۔یعنی جہاں تک مطالبہ کرنے والوں کا سوال ہے، اسے نظر انداز کر کے بھی بعض جماعتوں کو ان کے حق سے زائد حصہ دے دیا گیا ہے۔مثل الجنہ اماء اللہ کو پہلے ایک حصہ دیا گیا تھا اور اس کی وجہ جیسا کہ میں نے بیان بھی کی تھی، یہ تھی کہ عورتیں ایک بے زبان گروہ ہیں، جو ابھی پورے طور پر منظم نہیں ہوئیں اور ان کے لئے اکٹھا ہونے اور باقاعدہ طور پر اس تحریک میں اپنی شمولیت کا اعلان کرنے میں بہت سی مشکلات پیش آسکتی تھیں ، اس لئے میں نے ان کو ایک ترجمہ قرآن کے خرچ کا حق اپنے طور پر دے دیا تھا۔لیکن بعد میں ان کو جو دوسرا حصہ دیا گیا ، وہ یقیناً ایک زائد چیز ہے۔اسی طرح قادیان والوں کا ایک حصہ تو ان کا حق کہلا سکتا ہے لیکن دوسرا حصہ جو ان کو دیا گیا ، وہ ان کا حق نہیں کہلا سکتا بلکہ یہی کہنا پڑتا ہے کہ ایک جگہ اور ایک مقام میں رہنے والوں کو بجائے ایک کے دو حصے دے دیئے گئے ہیں۔پس اس حصہ کے متعلق بھی جو اعتراض دوستوں کی طرف سے کیا گیا ہے، 426