تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 387

خطبہ جمعہ فرمود 040 اگست 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم تحریک جدید کے سیکرٹریوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جماعت کو دوسرے دور میں حصہ لینے کے لیے آمادہ کریں۔جنہوں نے پہلے دور میں حصہ نہیں لیا، وہ دوسرے دور میں حصہ لینے کے لیے تیار ہو جا ئیں اور جنہوں نے پہلے دور میں حصہ لیا ہے، وہ دوسرے دور میں پہلے سے بھی بڑھ کر حصہ لیں تاکہ تحریک جدید کے دوسرے دور میں پہلے دور سے زیادہ ریز روفنڈ قائم ہو جائے۔جو تبلیغ کو وسیع کرنے میں ممد ہو۔ابھی جماعت میں اس تحریک کا بہت موقعہ اور گنجائش ہے۔ہماری لاکھوں کی جماعت ہے مگر صرف پانچ ہزار آدمی ہیں، جنہوں نے تحریک جدید کے پہلے دور میں حصہ لیا ہے۔اگر اس تحریک کو زیادہ وسیع کیا جائے تو دو تین لاکھ آدمی حصہ لے سکتے ہیں۔اگر اس تعداد میں سے آدھے بچے نکال دیئے جائیں تو ڈیڑھ لاکھ اور اگر عورتوں کو بھی نکال دیں تو پچھتر ہزار آدمی تحریک میں حصہ لینے والے ہونے چاہیں۔جن میں سے پہلے دور میں صرف پانچ ہزار نے حصہ لیا ہے اور ستر ہزار باقی ہیں۔اگر تحریک جدید کا محکمہ مضبوط خط و کتابت کرے اور جماعت کے لوگ بھی کوشش کریں تو دوسرے دور میں پہلے دور سے بھی زیادہ ریز روفنڈ قائم ہوسکتا ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ یہ زمانہ ٹھہر نے کا نہیں بلکہ دوڑنے اور کام کرنے کا زمانہ ہے۔دشمن جتنا آگے دوڑتا جارہا ہے، اس کو پکڑنے کے لئے اس سے زیادہ رفتار کے ساتھ ہم کو اس کے پیچھے بھاگنا چاہیے۔جو آگے دوڑنے والے سے کم دوڑتا ہے یا اس کے برابر دوڑتا ہے، وہ آگے دوڑنے والے کو بھی نہیں پکڑ سکتا۔وہی پکڑے گا، جو آگے دوڑنے والے سے زیادہ تیز رفتار ہو۔پس جب تک ہم یورپ کے لوگوں سے زیادہ تیز رفتاری اختیار نہیں کرتے ، جب تک ہم یورپ کے لوگوں سے زیادہ قربانیاں نہیں کرتے ، جب تک ہم یورپ کے لوگوں سے زیادہ محنت نہیں کرتے ، جب تک ہم یورپ کے لوگوں سے زیادہ سلسلہ کے کاموں پر وقت خرچ نہیں کرتے ، اس وقت تک یہ امید رکھنا غلطی ہے کہ دین کی فتح کا کام ہمارے ہاتھوں سے ہوگا اور خدا تعالیٰ ہماری جگہ کسی اور کو کھڑا نہیں کرے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس وقت اپنی طرف سے پوری کوشش اور طاقت خرچ کر دی جائے تو بقیہ کی خدا اپنے پاس سے پوری کر دیتا ہے۔لیکن جب تک مومن کا فر سے زیادہ محنت نہیں کرتا ، جب تک مومن کا فر سے زیادہ قربانی نہیں کرتا، جب تک مومن کا فر سے زیادہ تیز رفتار نہیں ہوتا، جب تک مومن کا فر سے زیادہ اپنا وقت دین کے کاموں پر خرچ نہیں کرتا، اس وقت تک یہ امید رکھنا کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے کمی کو پورا کر دے گا، یہ خدا تعالیٰ سے تمسخر ہے اور یا درکھو! بادشاہوں سے تمسخر بھی اچھے پھل نہیں لایا کرتا۔( مطبوعه الفضل 29 اگست1944ء) 387