تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 354
ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم مرکز نظر آجائے اور وہ سمجھ لے کہ اب دس پندرہ آدمی میری باتوں میں دلچسپی لینے لگ گئے ہیں تو وہ اسی جگہ بیٹھ جائے اور مدرسہ جاری کر دے، جس میں لوگوں کو دین کی باتیں سکھائے۔جوں جوں لوگ اس سے پڑھیں گے، وہ ارد گرد کے گاؤں اور دیہات میں ان اثرات کو پھیلائیں گے ، آگے وہ اور لوگوں تک ان باتوں کو پہنچائیں گے، یہاں تک کہ اس کے ذریعہ ہزار ہا معلم اور ہزار ہا مدرس پیدا ہو جائیں گے، جو لاکھوں اور کروڑوں کی ہدایت کا موجب ہوں گے۔یہ وہ روح ہے، جس کو پیدا کئے بغیر تبلیغ میں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔پھر تبلیغ کے لئے لٹریچر کی اشاعت بھی بڑی ضروری چیز ہے۔اور چونکہ دنیا میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس مختلف زبانوں میں لٹریچر موجود ہو۔اب تو یہ حالت ہے کہ جامعہ احمدیہ سے ایک طالب علم نکلتا ہے تو دعوۃ و تبلیغ والے کہتے ہیں، اسے تبلیغ کے لئے لے لو۔پھر وہ اسے دفتر میں بٹھا لیتے ہیں اور جب گجرات یا جہلم سے کوئی چٹھی آتی ہے تو اسے تقریر کے لئے وہاں بھیجوا دیتے ہیں۔انہوں نے کبھی اس بات کو مد نظر ہی نہیں رکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صرف قادیان یا پنجاب کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ساری دنیا کے لئے آئے تھے، جس میں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔پس ان کا فرض تھا کہ وہ دنیا کی ہر زبان کے لئے مبلغ تیار کرتے اور ہر زبان میں لٹریچر تیار کراتے۔مگر پچاس سال گزر گئے انہوں نے اس بات کی طرف توجہ ہی نہیں کی بلکہ ساری دنیا کو جانے دو، سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان میں ہی صرف اردو زبان بولی جاتی ہے کوئی اور زبان نہیں بولی جاتی؟ جب ہندوستان میں ہی کئی زبانیں بولی جاتی ہیں تو محکمہ دعوت وتبلیغ نے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ وہ اردو میں بولنے والے مبلغ رکھ کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو گیا ہے؟ پنجاب میں بے شک اردو بولی جاتی ہے مگر بنگال میں اردو زبان کام نہیں دے سکتی بلکہ بنگالی کام آتی ہے۔اڑیسہ میں ار یہ زبان کام آتی ہے۔بمبئی میں مرہٹی یا گجراتی کام آتی ہے۔سی پی میں بھی گجراتی کام آتی ہے۔مدراس میں تامل تلنگو اور مالا باری کام دیتی ہے۔صوبہ سرحد میں پشتو اور فارسی کام دیتی ہیں۔پھر بڑے بڑے شہروں مثلاً کلکتہ ، بمبئی ، ڈھا کہ مدراس، اور کراچی وغیرہ میں بھی اردو کام نہیں آتی بلکہ انگریزی زبان کام آتی ہے۔سندھ میں سندھی زبان بولی جاتی ہے۔مگر انہوں نے اس بات کو کبھی مد نظر ہی نہیں رکھا۔بس اپنا کام صرف اتنا ہی سمجھ لیا کہ مبلغوں کو دفتر میں بٹھالیا اور جب گجرات یا جہلم یا کسی اور جگہ سے کوئی چٹھی آئی تو وہاں دو دن کے لئے مبلغ بھجوا دیا اور پھر دو دو مہینے اسے آرام کرنے کے لئے اپنے گھر بٹھا دیا۔پھر کسی جگہ چٹھی آئی تو پھر چند دنوں کے لئے انہیں تقریر کرنے کے لئے بھجوا دیا۔354