تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 273
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود 26 نومبر 1943ء کے نام کو بلند کرنے اور اس کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کی توفیق عطا فرما تا بندے اور اس کے ہمسایہ کی لڑائی ، بندے اور اس کے نفس کی لڑائی ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے اور بندے اور خدا کے درمیان دائمی صلح ہو جائے۔جس صلح میں دائمی خوشی اور جس تعلق میں دائی راحت ہے اور اس طرح دنیا کی تمام غلاظتیں اور دنیا کے تمام گناہ مٹ جائیں اور تیرا نور چاروں طرف پھیلتا ہوا نظر آئے۔میں یہ بھی اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ وہ مخلصین ، جو دوسروں سے آگے رہنے کے خواہش مند ہوا کرتے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ دسمبر کے مہینہ کے اندر اندر اپنے وعدے لکھوا دیں۔اسی طرح جو جماعتیں اچھا نمونہ دکھانا چاہتی ہیں، انہیں بھی چاہئے کہ وہ اپنی فہرستیں مکمل کر کے 31 دسمبر تک بلکہ ہو سکے تو جلسہ سالانہ سے پہلے ہی مرکزی دفتر تحریک جدید میں بھجواد ہیں۔یہ میعاد صرف ان مخلصین کے لئے ہے، جو نیکی کے میدان میں آگے رہنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ورنہ یوں وعدوں کے لحاظ سے 7 فروری آخری تاریخ ہوگی یعنی جو وعدے 7 فروری تک یہاں پہنچ جائیں گے یا اپنے اپنے مقام سے 31 جنوری کو روانہ ہوں گے، وہی قبول کئے جائیں گے ، باقی نہیں۔سوائے ہندوستان کے ان علاقوں کے کہ جہاں اردو زبان بولی یا سمجھی نہیں جاتی اور سوائے بیرونی ممالک کے کہ ان کے لئے اپریل اور جون کی وہی تاریخیں مقرر ہیں، جو پہلے مقرر ہوا کرتی تھیں۔میں امید کرتا ہوں کہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ یہ دونوں اپنے وقت کی قربانی کر کے زیادہ سے زیادہ کانوں تک اس آواز کو پہنچانے کی کوشش کریں گے اور اس غرض کے لئے خاص طور پر جلسے منعقد کر کے لوگوں کو تحریک کریں گے کہ وہ اس چندہ میں حصہ لیں۔اس طرح وہ ہر جگہ ایسے آدمی مقرر کر دیں، جو ہر احمدی تک یہ آواز پہنچا دیں اور اسے دین کی اس خدمت میں حصہ لینے کی تحریک کریں مگر جبر سے نہیں ، زور سے نہیں ،محبت اور اخلاص سے تحریک کرو اور کسی کو اس میں شامل ہونے کے لئے مجبور مت کرو۔جو شخص محبت اور اخلاص سے اس تحریک میں حصہ لیتا ہے، وہ خود بھی بابرکت ہے اور اس کے روپیہ میں بھی برکت ہوگی لیکن وہ، جو مجبوری سے اور کسی کے زور دینے پر اس تحریک میں حصہ لیتا ہے، اس کے دیئے ہوئے روپے میں کبھی برکت نہیں ہوسکتی۔پس کسی کو جبرا اس تحریک میں شامل کر کے اس برکت کو کم مت کرو بلکہ اگر تمہیں ایسا روپیہ ملتا بھی ہے تو اسے دور پھینک دو کہ وہ ہمارے لئے نہیں، شیطان کے لئے ہے۔ہمارے لئے وہی روپیہ ہو سکتا ہے، جو خدا کے لئے دیا جائے اور جسے ہم خدا کے سامنے پیش کرنے میں فخر محسوس کر سکیں“۔( مطبوع الفضل یکم دسمبر 1943ء) 273