تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 12
خطبہ جمعہ فرمودہ 105 اپریل 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم پر برا اثر پڑے گا۔گو محاسب صاحب اور ناظر صاحب بیت المال تو اب بھی کہہ رہے ہیں کہ انجمن کے چندوں پر اثر پڑ رہا ہے۔مگر میں ان کی اس رائے سے متفق نہیں ہوں کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ انجمن کا چندہ اسی طرح بڑھ رہا ہے، جس طرح کہ پہلے بڑھتا تھا۔لیکن اس میں شک نہیں کہ اگر ان عارضی چندوں کو مستقل کر دیا گیا تو اس کے نتیجہ میں ایک لمبے عرصہ کے بعد انجمن کے چندوں میں ترقی رک جائے گی۔اور ادھر یہ کام ایسا ہے کہ اسے ہم چھوڑ بھی نہیں سکتے تبلیغ کو کسی وقت بھی بند نہیں کیا جاسکتا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ کوئی ایسا انتظام کر دیا جائے کہ جس سے معمولی اخراجات پورے ہو سکیں اور بجٹ پورا ہوتا رہے۔اس کے علاوہ اگر کوئی خاص ضرورت پیش آئی تو چندہ لے لیا ورنہ نہیں۔کارکنوں کے گزاروں اور دفتری اخراجات کے لئے مستقل آمد سے کام ہوتا رہے۔میرا اندازہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اس سے پچاس ساٹھ ہزار روپیہ سالانہ کی آمد ہوتی رہے گی اور اس طرح دفتری اخراجات اور کارکنوں کے گزارہ کے لئے جماعت سے چندہ لینے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔اس زمین کی اقساط ہیں سال میں ادا ہوں گی لیکن مجھے امید ہے کہ اگر حالات ایسے ہو جائیں کہ زمینداروں کی پیدا کردہ اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں تو اس تحریک کے عرصہ کے اندراندر ہی ادا ہو سکتی ہیں۔بہر حال یہ ایسی مستقل بنیاد یں ہیں کہ جن سے تبلیغ کا دروازہ بہت وسیع ہو سکتا ہے اور یہ ایسا مستقل فنڈ ہے کہ جو تبلیغ کے کام کو بڑھانے کے سامان اپنے اندر رکھتا ہے۔مگر ہم اس کام کو آرام اور فراغت کے ساتھ اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک کہ جماعت کے دوست اپنے وعدوں کو پورا نہ کریں اور وعدے پیش کرنے میں دلیری اور جرات سے کام نہ لیں۔میں نے مجلس شورای میں یہ بات بیان کی تھی کہ اس سال کے وعدے گزشتہ سال سے کچھ کم ہیں مگر و 1938ء کی نسبت تو زیادہ ہیں مگر 1939ء کی نسبت سے کم ہیں۔بے شک ابھی بیرون ہند کی جماعتوں کے سب وعدے نہیں آئے جو کئی ہزار کے ہوتے ہیں۔مگر ان ہزاروں کو شامل کر کے بھی تین چار ہزار کی کمی رہ جائے گی اور یہ بہت نقص کی بات ہے۔مومنوں کی جماعت کا ہر قدم آگے ہونا چاہئے ، پیچھے نہیں۔مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ مجلس شوری کے موقعہ پر میرے اس بیان کے بعد بعض دوست توجہ کر رہے ہیں۔چنانچہ عزیزم مرزا مظفر احمد صاحب نے جو میرے بھتیجے اور داماد بھی ہیں خط لکھا ہے کہ آپ جب یہ ذکر کر رہے تھے کہ اس سال وعدوں میں کچھ کمی ہے تو میرے دل پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ میں نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ میں اپنے وعدہ میں اضافہ کروں گا۔چنانچہ میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ اپنا چندہ دوسو کی جگہ اڑھائی سوکرتا ہوں۔12