تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 152

خطبہ جمعہ فرمودہ 09 جنوری 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم آجائے۔مگر افسوس میں شہید نہ ہوا اور آج میں اپنے بستر پر جان دے رہا ہوں۔حالانکہ خدا جانتا ہے میں نے اپنی طرف سے اس پیالہ کے پینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور میں نے پور از ور لگایا کہ کسی طرح شہادت کا مرتبہ مجھے نصیب ہو جائے مگر افسوس! میں اس سے محروم رہا۔پھر اسے کہنے لگے میرے سینہ پر سے کر نہ تو اٹھاؤ۔اس نے اٹھایا تو کہنے لگے میرے سینہ کو دیکھو اور بتاؤ کہ کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں ؟ اس نے کہا کوئی جگہ نہیں ، سب جگہ تلوار کے زخموں کے نشانات پائے جاتے ہیں۔پھر کہنے لگے اچھا اب میری پیٹھ پر سے کرتہ اٹھاؤ اور دیکھو کہ کیا میری پیٹھ پر بھی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں؟ اس نے پیٹھ پر سے کر نہ اٹھایا اور دیکھ کر کہنے لگا کہ پیٹھ پر بھی ہر جگہ تلوار کے زخموں کے نشانات پائے جاتے ہیں۔پھر انہوں نے کہا اب میرے پانچے اٹھا کر دیکھو کہ کیا میری لاتوں پر کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں؟ اس نے دیکھا اور کہا کہ کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں۔یہ نشانات دکھانے کے بعد حضرت خالد کہنے لگے تم دیکھ سکتے ہو کہ میں نے کس طرح اپنے آپ کو بے پرواہ ہو کر جنگ میں ڈالا کہ آج میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جس پر تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں مگر وہ لوگ جو میرے پیچھے آئے تھے ، وہ تو جام شہادت پی کر پنے رب کے پاس چلے گئے اور میں بستر پر تڑپ تڑپ کر جان دے رہا ہوں۔تو دیکھو ایک قربانیاں وہ ہوتی ہیں، جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتیں بلکہ دشمن کے قبضہ میں ہوتی ہیں۔مگر ایک قربانیاں وہ ہوتی ہیں، جو انسان کے اپنے اختیار میں ہوتی ہیں۔جو قربانیاں انسان کے اپنے اختیار میں ہوتی ہیں در حقیقت انہی کے ذریعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انسان وہ قربانیاں بھی کر سکتا ہے یا نہیں ، جو اس کے اختیار سے باہر ہیں۔ورنہ انسان اپنے دل میں خواہشیں تو کیا ہی کرتا ہے؟ تو انما الاعمال بالنيات۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا انسانی عمل نیتوں کے مطابق ہوتا ہے۔دیکھو خالد کی نیت یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جا ئیں مگر عمل نیت کے مطابق نہ ہو سکا یعنی وہ شہید نہ ہوئے۔مگر کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جس وقت ارواح پیش ہوں گی ، اس وقت وہ لوگ جو خالد سے سالہا سال پیچھے آئے اور جنہوں نے خالد سے سینکڑوں گنا کم قربانیاں کی تھیں۔وہ تو شہیدوں کی صف میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے اور حضرت خالد پچھلی صف میں محض صلحاء کے زمرہ میں پیش ہوں گے؟ یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔بلکہ حق یہ ہے کہ اگر ان شہداء کی ارواح صرف ایک ایک شہید کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گی تو حضرت خالد کی روح ہزاروں شہیدوں کی صورت میں خدا تعالیٰ کے 152