تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 343

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 18 دسمبر 1936ء جماعتوں کی وصولی کی تاریخ بھی جون کے آخر تک ہے لیکن معلوم ہوتا ہے انہوں نے ان اعلانات کو پڑھا نہیں اور اب تک بیرونی جماعتوں کی طرف سے تحریکیں ہو رہی ہیں کہ ہمیں چندوں کی ادائیگی کے لئے مزید مہلت ملنی چاہئے۔حالانکہ ان کے لئے پہلے سے جون کے آخر تک وقت مقرر ہے اور جنوری کے آخر تک کا وقت ہندوستان والوں کے لئے ہے جن کے وعدوں کی مدت 15 جنوری تک ختم ہوتی تھی۔پس وصولی کی مدت بھی اگلے سال کی اسی تاریخ پر ختم کی گئی۔اس کے بعد میں دوستوں کو تحریک جدید کے اس حصہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو سادہ زندگی اختیار کرنے کا ہے۔میں نے اس کی طرف متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے اور علاوہ تحریک کے ایام کے دوسرے وقتوں میں بھی توجہ دلائی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جہاں تک اسلام پر غور کرتا ہوں مجھے اس کے تمدن کا یہ نقطہ مرکزی نظر آتا ہے اور میں سمجھتا ہوں ہزاروں قومی خرابیاں تکلفات سے پیدا ہوتی ہیں۔غریب اور امیر کا فرق یا تمدنی تعلقات کی ترقی یہ سب بنی ہیں سادہ زندگی یا پر تکلف زندگی پر۔جیسی جیسی کسی انسان یا قوم کی زندگی ہو اس کے مطابق قومی تعلقات اور تمدنی تعلقات ترقی کرتے ہیں یا تنزل کرتے ہیں۔خالی یہ سوال نہیں کہ خود انسان کیا کھاتا ہے یا کیا پہنتا ہے؟ بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ اس کے کھانے اور اس کے پہنے کا اثر اس کی روحانیت اور اس کی قوم پر کیا پڑتا ہے؟ بہت سے لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جن کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی دعوت کریں لیکن وہ اس لئے ان کی دعوت نہیں کر سکتے کہ اگر دعوت کی تو شاید ان کی حیثیت کے مطابق انہیں کھانا نہ کھلا سکیں۔کئی امرا اس لئے اپنے غریب بھائیوں کی دعوت قبول نہیں کرتے کہ وہ ان کے مزاج کا کھانا انہیں نہیں کھلا سکیں گے لیکن اگر کھانے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق وہی طریق جاری ہو جائے جو ہم تحریک جدید کے ماتحت اختیار کئے ہوئے ہیں کہ صرف ایک کھانا پکایا جائے تو نہ دعوت کرنے والے پر کوئی بار پڑتا ہے اور نہ دعوت قبول کرنے والا کوئی ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔دعوت کرنے والا سمجھتا ہے کہ میرا کوئی زائد خرچ تو ہونے نہیں لگا اور دعوت قبول کرنے والا سمجھتا ہے کہ گھر میں بھی تو میں نے ایک ہی کھانا کھانا ہے آؤ آج اس کی دعوت ہی قبول کر لیں اور وہ کون سا ایک کھانا ہے جس کے متعلق کسی کو دعوت کرنے کا تو خیال آ جائے مگر وہ تیار نہ کر سکے؟ آخر وہ شخص جو فاقے کرتا ہوا سے تو دعوت کرنے کا خیال نہیں آسکتا۔دعوت کا خیال جسے آسکتا ہے وہ بہر حال ایک کھانا تیار کر سکتا ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں ہوسکتا جسے دوسرے کی دعوت کرنے کا تو خیال آئے مگر ایک کھانا بھی نہ تیار کر سکے۔پس اس ذریعہ سے امرا اور غربا کے تعلقات میں 343