تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 319
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقْتَلُ مِنْ وَرَآئِهِ خطبہ جمعہ فرموده 11 ستمبر 1936ء خالی قربانی کبھی کامیاب نہیں کرتی بلکہ وہ قربانی جو امام کے پیچھے اور اس کی اتباع میں کی جائے۔بے شک مومن کو قربانیوں کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے مگر اُسے اس بات کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے کہ امام کی آواز سنے اور جب امام قربانیوں کے لئے بلائے اس وقت اپنی قربانی کا اظہار کرے۔نماز کتنی اچھی چیز ہے جتنی لمبی نماز ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا کہ جو شخص امام سے پہلے حرکت کرتا ہے قیامت کے دن اس کا منہ گدھے کی طرح بنایا جائے گا اسی طرح اگر کوئی شخص نام کے تکبیر کہنے سے ایک منٹ پہلے نماز کی نیت باندھ لیتا ہے تو وہ ثواب حاصل نہیں کرتا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق قیامت کے دن وہ گدھے کی شکل میں اُٹھایا جائے گا پھر رکوع اور سجدہ دعا کیلئے کتنے اچھے مقام ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں چلا جاتا ہے وہ غلطی کرتا ہے جب امام جھکے تب جھکنا چاہئے اور جب امام سر اُٹھائے اس وقت سر اٹھانا چاہئے۔پس بے شک انہوں نے اخلاص دکھایا اور میں اس کی قدر کرتا ہوں اور ان کے لئے دعا کرتا ہوں لیکن ان کی خیر خواہی کے بدلہ میں ان سے یہ خیر خواہی کرتا ہوں کہ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم بتا تا ہوں کہ جس وقت قومی قربانی کا سوال ہو اس وقت ہر شخص کو امام کی آواز کا انتظار کرنا چاہئے۔ہاں جب انفرادی قربانی کا سوال ہو ہر شخص اپنے اخلاص کے اظہار کے لئے دوسروں سے آگے بڑھ سکتا ہے اور اسے بڑھنا چاہئے۔در حقیقت امام کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ ایک جماعت بحیثیت جماعت قربانی کرے۔افراد کی قربانی تو بغیر امام کے بھی ہو سکتی ہے۔سپین کی نازک حالت میں جب مسلمانوں کی حکومت تباہ ہو رہی تھی عیسائیوں نے بعض شرائط پیش کیں کہ اگر مسلمان انہیں مان لیں تو ہم انہیں ملک سے نکل جانے کی اجازت دے دیں گے۔بادشاہ نے اس کے متعلق مشورہ لینے کے لئے جب اپنے سرداروں کو بلایا تو انہوں نے کہا یہ بہت اچھی بات ہے کہ ان شرائط کو تسلیم کر لیا جائے ہمارے اندران کے مقابلہ کوئی طاقت نہیں۔اگر وہ ہمیں افریقہ جانے دیں، کتب خانے ساتھ لے جانے دیں اور کسی قدر مال و دولت کے لے جانے میں بھی مزاحم نہ ہوں تو ہمیں اور کیا چاہئے؟ ان سرداروں میں ایک مسلمان جرنیل بھی تھا جب اُس نے یہ باتیں سنیں تو وہ کھڑا ہوا اور اس نے کہا: سوڈیڑھ سو سال سے ہماری حالت اس ملک میں کمزور ہوتی چلی 319