تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 74

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ثابت ہوں۔اس موجودہ حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے میری تاکید ہے کہ قادیان، بھینی اور منگل کے سوا سر دست اور سی گاؤں سے آبادی کے لئے زمین نہ خریدی جائے۔ابھی ہمارے بڑھنے کے لئے بھینی اور منگل کی طرف کافی گنجائش ہے۔منگل کے لوگ خوشحال ہیں اور زمین فروخت نہیں کرتے ان کی اس حالت کو دیکھ کر ہمیں خوشی ہوتی ہے۔بھینی والے اپنی زمین بیچتے رہتے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ وہ اپنی زمین زیادہ قیمت پر بیچ کر اور جائیداد پیدا کرتے ہیں بلکہ غربت کی وجہ سے بیچتے ہیں اس بات کا ہمیں افسوس ہے۔کاش! وہ پہلی زمینیں فروخت کر کے فروخت کردہ زمین سے زیادہ زمین دوسرے گاؤں میں خریدتے تو ہمارے لئے دُہری خوشی کا موجب ہوتا۔یہ مطالبات ہیں جو میں جماعت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ان میں سے ہر ایک لمبے غور اور فکر کے بعد تجویز کیا گیا ہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو سلسلہ کی ترقی میں ممد نہ ہو۔ان میں سے ہر ایک بیج ہے ایسا بیج جو بڑی ترقی پانے والا اور بہت بڑا درخت بنے والا اور دشمنوں کو زیر کرنے والا ہے۔ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نظر انداز کرنے والی نہیں اور ایک بھی ایسی نہیں کہ اس کے بغیر ہماری ترقی کی عمارت مکمل ہو سکے۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ جس جس سے ہو سکے ان میں حصہ لے اور اس طرح سلسلہ کی ترقی کے وقت کو قریب لانے اور خدا تعالیٰ سے اجر حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ایک اور چیز باقی رہ گئی ہے جو سب کے متعلق ہے گوغر با اس میں زیادہ حصہ لے سکتے ہیں۔د نیوی سامان خواہ کس قدر کئے جائیں آخر دنیوی سامان ہی ہیں اور ہماری ترقی کا انحصار ان پر نہیں بلکہ ہماری ترقی خدائی سامان کے ذریعہ ہوگی اور یہ خانہ اگر چہ سب سے اہم ہے مگر اسے میں نے آخر میں رکھا ہے اور وہ دعا کا خانہ ہے۔وہ لوگ جو ان مطالبات میں شریک نہ ہوسکیں اور ان کے مطابق کام نہ کر سکیں وہ خاص طور پر دعا کریں کہ جو لوگ کام کر سکتے ہیں خدا تعالیٰ انہیں کام کرنے کی توفیق دے اور ان کے کاموں میں برکت ڈالے۔ہماری فتح ظاہری سامانوں سے نہیں بلکہ باطنی سامانوں سے ہوگی۔اگر ہمارے دلوں میں حقیقی ایمان پیدا ہو جائے اور اگر ہم صرف خدا کے ہو جائیں تو ساری دنیا کو فتح کر لینا ہمارے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر چالیس مومن بھی کھڑے ہو جائیں تو ساری دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔وہ لوگ جو کچھ نہیں کر سکتے وہ یہی دعا کرتے رہیں کہ خدا تعالیٰ چالیس مومن پیدا 74