تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 73

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء کرتا ہوں کہ وہ اپنی مساجد کی صفائی اور لیپائی وغیرہ خود کیا کریں اور اس طرح ثابت کریں کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا وہ عار نہیں سمجھتے۔شغل کے طور پر لوہار نجار اور معمار کے کام بھی مفید ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے کام کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ خندق کھودتے ہوئے آپ نے پتھر توڑے اور مٹی ڑھوئی۔صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پسینہ آیا بعض نے برکت کے لئے اسے پونچھ لیا۔یہ تربیت ، ثواب اور رعب کے لحاظ سے بھی بہت مفید چیز ہے۔جو لوگ یہ دیکھیں گے کہ ان کے بڑے بڑے بھی مٹی ڈھونا اور مشقت کے کام کرنا عار نہیں سمجھتے ان پر خاص اثر ہوگا۔بدر کے موقع پر جب کفار نے ایک شخص کو مسلمانوں کی جمیعت دیکھنے کے لئے بھیجا تو اس نے آکر کہا: آدمی تو تھوڑے سے ہی ہیں لیکن موت نظر آتے ہیں وہ یا تو خود مر جائیں گے یا ہمیں مار ڈالیں گے۔اسی وجہ سے انہوں نے لڑائی سے باہر رہنے کی کوشش کی جس کا ذکر میں پہلے کر آیا ہوں۔ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی مخالفین جب یہ دیکھیں گے کہ یہ ہر کام کرنے کے لئے تیار ہیں اور کسی کام کے کرنے میں عار نہیں سمجھتے تو سمجھیں گے کہ ان پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں۔سترھواں مطالبہ یہ ہے کہ جو لوگ بے کار ہیں وہ بے کار نہ رہیں۔اگر وہ اپنے وطنوں سے باہر نہیں جاتے تو چھوٹے سے چھوٹا جو کام بھی انہیں مل سکے وہ کر لیں۔اخباریں اور کتابیں ہی بیچنے لگ جائیں، ریز رو فنڈ کے لئے روپیہ جمع کرنے کا کام شروع کر دیں۔غرض کوئی شخص بے کار نہ رہے خواہ اسے مہینہ میں دو روپے کی ہی آمدنی ہو کیونکہ دو بہر حال صفر سے زیادہ ہیں۔بعض بی اے کہتے ہیں ہم بے کار ہیں ہمیں کوئی کام نہیں ملتا۔میں انہیں کہتا ہوں دو روپے بھی اگر وہ کما سکیں تو سمائیں۔میں نے جس قدر حساب پڑھا ہے اس سے مجھے یہی معلوم ہوا ہے کہ دور و پے صفر سے زیادہ ہوتے ہیں۔غرض کوئی احمدی نکما نہ رہے اسے ضرور کوئی نہ کوئی کام کرنا چاہئے۔اٹھارھواں مطالبہ باہر کے دوستوں سے میں یہ کرتا ہوں کہ قادیان میں مکان بنانے کی کوشش کریں۔اس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں لوگ مکان بنا چکے ہیں مگر ابھی بہت گنجائش ہے۔جوں جوں قادیان میں احمدیوں کی آبادی بڑھے گی ہمارا مرکز ترقی کرے گا اور غیر عنصر کم ہوتا جائے گا۔غیر عنصر کو کم کرنے کے دو ہی طریق ہیں یا تو یہ کہ وہ یہاں سے چلا جائے اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں یا یہ کہ ہماری آبادی بڑھنے سے ان کی آبادی کی نسبت کم ہو جائے اور یہ ہمارے اختیار کی بات ہے۔جب ہم اپنے آپ کو بڑھاتے جائیں گے تو غیر عصر خود بخود کم ہوتا جائے گا۔ہاں یا درکھو! کہ قادیان کو خدا تعالیٰ نے سلسلہ احمدیہ کا مرکز قرار دیا ہے اس لئے اس کی آبادی انہی لائنوں پر چلنی چاہئے جو سلسلہ کے لئے مفید 73