تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 724 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 724

اقتباس از تقریر فرموده 7 اپریل 1939ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول تیار ہورہا ہے اسے دینی تعلیم دلوائی جا رہی ہے۔جب یہ تعلیم مکمل ہو جائے گی تو بعض بیرونی ممالک میں انہیں دنیوی تعلیم دلائی جائے گی، کیونکہ جیسا کہ گزشتہ مجلس مشاورت کے موقع پر میں نے بیان کیا تھا میرا ارادہ ہے کہ ان لوگوں کو اگر ہم گزارے کم دیتے ہیں تو علمی طور پر ہم ان کے اندر اس قدر لیاقت اور قابلیت پیدا کر دیں کہ دنیا کی کسی علمی مجلس میں بیٹھ کر وہ اپنے آپ کو کم علم والا محسوس نہ کریں اور اگر روپیہ کے لحاظ سے ان کے پاس اس قدر فراوانی ہو کہ کوئی شخص انہیں ذلیل نہ سمجھ سکے اور ہر جگہ وہ اپنا رعب قائم رکھ سکیں۔باقی رہا روپے کا معاملہ سو جہاں تک وعدوں کا سوال ہے جماعت نے اس سال پہلے سالوں سے زیادہ تحریک جدید کے مالی مطالبہ کی طرف توجہ کی ہے اور باوجود یکہ بہت سے لوگ اس نیت اور اس ارادہ سے اس تحریک میں شامل ہوئے تھے کہ تین سال کے بعد تحریک بند ہو جائے گی اور مالی بوجھ ان پر زیادہ دیر تک نہیں رہے گا اور باوجود اس بات کے کہ میں نے اب یہ اعلان کر دیا ہے کہ دس سال تک جماعت کو مسلسل یہ مالی قربانی کرنی پڑے گی اور یہ کہ وہی اس تحریک میں شال ہوں جو مستقل طور پر قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تا کہ اس دائگی یادگار میں ان کا نام آئے جو مسلسل قربانی کرنے والوں کی یاد میں قائم کی جائے گی۔پھر بھی بجائے کمی کے وعدوں میں زیادتی ہوئی ہے۔چنانچہ اس وقت تک ایک لاکھ پچیس ہزار روپیہ کے وعدے ہو چکے ہیں اور ابھی بیرونی ممالک کی اکثر جماعتوں کے وعدے نہیں پہنچے۔ان کو ملا کر یہ رقم اور بھی زیادہ ہو جائے گی۔جیسا کہ میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں اس روپیہ سے تحریک جدید کا ایک ایسا مستقل فنڈ ہم نے قائم کرنا ہے جس کے نتیجہ میں آئندہ تحریک جدید کا شعبہ چندے کا محتاج نہیں رہے گا۔وقتی یا ہنگامی ضرورت کے لئے اگر کوئی چندہ کرنا پڑے تو وہ اور بات ہے۔اس فنڈ کے قائم کرنے سے میرا منشا یہ ہے کہ روزانہ کام کے لئے چندوں کی ضرورت نہ رہے اور اس فنڈ کی آمد سے ہی تمام کام ہوتا رہے تا کہ ہمارے ملک کا اقتصادی اتار چڑھاؤ تبلیغ کے کام میں روک پیدا نہ کر سکے۔عملی حصہ سے متعلق میں نے خدام الاحمدیہ کی تحریک جماعت میں جاری کی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک کو بہت بڑی کامیابی ہو رہی ہے۔قادیان میں خصوصاً اچھا کام ہورہا ہے۔باہر بھی بعض جگہ مجالس خدام الاحمدیہ کام کر رہی ہیں، مگر چونکہ ابھی وہ پورے طور پر منظم نہیں ہیں اور دوسرے پورے طور پر انہیں تجربہ بھی حاصل نہیں اس لئے اس عمدگی سے بیرونی جماعتوں میں کام نہیں ہورہا جس عمدگی سے قادیان میں ہورہا ہے۔میرا منشا ہے کہ قادیان کے خدام الاحمدیہ جب وہ تمام سبق ذہن نشین کرلیں جو ہیں ان کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں اور ان کو اس تحریک کی تمام جزئیات کا علم ہو جائے تو انہیں انسپکٹر بنا کر باہر کے علاقوں میں بھیجا جائے تاکہ وہ مہینہ مہینہ دو دو مہینے وہاں رہ کر مجالس خدام 724