تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 723 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 723

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 7 اپریل 1939ء فیصدی اس بیماری سے مر جاتے ہیں اور بعض تو چند گھنٹوں کے اندر ہی وفات پا جاتے ہیں۔ہماری مسجد مبارک کا ہی ایک موذن تھا وہ عصر کے وقت بیمار ہوا اور شام کے وقت فوت ہو گیا۔ایسی خطرناک حالت میں جبکہ اس کی موت یقینی کا نانوے فیصدی یقین کیا جا سکتا تھا اس نے اپنا علاج بھی یہی سمجھا کہ کسی غیر احمدی سے مباہلہ ہو جائے اور اس نے کہا کہ اگر مباہلہ ہو گیا تو یقیناً خدا مجھے شفا دے دے گا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ میں اس مرض سے مر جاؤں۔بہر حال اس واقعہ سے اس کا اخلاص ظاہر ہے۔اسی طرح اس کی دور اندیشی بھی ثابت ہے کیونکہ اس نے ایک اور نو جوان کو خود ہی تحریک کی کہ میرے ساتھ چلو اور وہ تیار ہو گیا۔اس طرح گو عدالت خاں فوت ہو گیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے بیج کو ضائع نہیں کیا بلکہ ایک دوسرے شخص نے جسے وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا احمدیت کے جھنڈے کو پکڑ کر آگے بڑھنا شروع کر دیا اور مشرقی شہر کا شغر میں پہنچ گیا اور وہاں تبلیغ شروع کر دی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کے ایک دوست کو اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرما دی۔حاجی جنود اللہ صاحب ان کا نام ہے۔وہ اسی تبلیغ کے نتیجہ میں قادیان آئے اور تحقیق کر کے احمدیت میں شامل ہو گئے۔پھر کچھ عرصہ بعد حاجی جنود اللہ صاحب کی والدہ اور ہمشیرہ بھی احمدی ہو گئیں اور اب تو وہ قادیان ہی آئے ہوئے ہیں۔تو عدالت خان کی قربانی رائیگاں نہیں گئی بلکہ احمدیت کو اس علاقہ میں پھیلانے کا موجب بن گئی۔یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس میں احمدیت کی اشاعت کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ایسے ایسے خطر ناک اور دشوار گزار راستے ہیں کہ ان کو عبور کرنا ہی بڑی ہمت کا کام ہے۔حاجی جنود اللہ صاحب کی والدہ نے بتایا کہ رستہ میں ایک مقام پر وہ تین دن تک برف پر گھٹنوں کے بل چلتی رہیں۔ایسے سخت رستوں کو عبور کر کے ہماری جماعت کے ایک نوجوان کا اس علاقہ میں پہنچنا اور لوگوں کو تبلیغ کرنا بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔تو تحریک جدید کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے عدالت خان کو پہلے یہ توفیق دی کہ وہ افغانستان جائے۔چنانچہ وہ افغانستان میں کچھ عرصہ رہا اور جب واپس آیا تو میری تحریک پر وہ چین کے لئے روانہ ہو گیا اور خود ہی ایک اور نو جو ان کو اپنے ساتھ شامل کر لیا۔راستہ میں عدالت خاں کو خدا تعالیٰ نے شہادت کی موت دے دی، مگر اس کے دوسرے ساتھی کو اس امر کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ آگے بڑھے اور مشرقی ترکستان میں جماعت احمدیہ قائم کر دے۔یہ دو واقعات شہادت بتاتے ہیں کہ گو یہ اپنی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہوئے مگر ان کی کوششیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول تھیں۔چنانچہ ان دو آدمیوں میں سے ایک کو تو اللہ تعالی نے عملی رنگ میں شہادت دے دی اور دوسرے کی وفات ایسے رنگ میں ہوئی جو شہادت کے ہمرنگ ہے۔اب جو نیا گروہ 723