تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 711 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 711

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول 22 اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 15 دسمبر 1939ء اس تحریک کے بابرکت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں خطبہ جمعہ فرمودہ 15 دسمبر 1939ء ہیں جب کہ تحریک جدید میں چندہ لکھانا بھی ہر شخص کی مرضی پر منحصر ہے اور وعدہ کر کے اپنا نام رجسٹر سے کٹو الینا بھی ہر شخص کے اختیار میں ہے اور جب کہ دونوں طرف انسان کا اپنا اختیار ہی کام کر رہا ہے، تو ایسی صورت میں چار فیصدی کیا اگر ایک فیصدی کی کمی بھی رہتی ہے تو وہ لوگ جو اس کمی کا موجب بنتے ہیں اللہ تعالیٰ کے حضور گنہ گار ٹھہرتے ہیں اس لئے کہ جب چندہ لکھواتے وقت وہ اختیار رکھتے تھے کہ چاہیں تو لکھوائیں اور چاہیں تو نہ لکھوائیں اور جب چندہ لکھوا دینے کے بعد بھی وہ اختیار رکھتے تھے کہ چاہیں تو لکھ دیں ہمارے حالات بدل گئے ہیں اب ہم چندہ نہیں دے سکتے ہمارا نام لسٹ میں سے کاٹ دیا جائے تو انہوں نے نادہند بننے کی بجائے وہ طریق کیوں نہ اختیار کیا جو ان کیلئے کھلا تھا اور جسے اختیار کر کے وہ نادہند اور گنہ گار بننے سے محفوظ رہ سکتے تھے " " اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت دنیا کے پردے پر اور کوئی جماعت ایسی نہیں جو مالی لحاظ سے ویسی قربانی کر رہی ہو جیسی قربانی ہماری جماعت کر رہی ہے۔ہم کتنا ہی زجر کریں، کتنا ہی بعض لوگوں کا شکوہ کریں اس سچائی کا انکار سوائے اندھے اور ازلی شقی کے اور کوئی نہیں کر سکتا کہ اس زمانہ میں اس غریب جماعت سے زیادہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے قربانیاں کرنے والا کوئی نہیں۔ہم میں ہزاروں کمزوریاں ہیں، ہم میں ہزاروں عیب ہیں، ہم میں ہزاروں نقائص ہیں مگر باوجود ان نقائص کو تسلیم کرنے کے اس میں کوئی کلام نہیں کہ دوسری جماعتوں کے مقابلہ میں ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے دین کے لئے ایسی بے نظیر قربانیاں پائی جاتی ہیں کہ قریب کے زمانہ میں ان کی کوئی نظیر نظر نہیں آتی اور دشمن بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہے مگر پھر بھی اس فخر اور خوشی کی تکمیل کے جتنے مدارج ہوں ان کے حصول کے لئے کوشش کرنا ہمارا فرض ہے اور خدا تعالیٰ کا مقرب بنانے کیلئے جن مجاہدات کی ضرورت ہے ان کی طرف جماعت کو متوجہ کرنا ضروری ہے۔711