تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 60

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول بالکل جائز ہے بلکہ تم ان بکریوں میں میرا بھی حصہ رکھو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمانا کہ میرا بھی حصہ رکھو اس غرض سے تھا کہ ان لوگوں کا شک دور ہو جائے اور آپ کا بکریوں کو جائز قرار دینا میرے نزدیک اس قد ردم کر کے روپیہ لینے کی اجازت کے لئے نہ تھا جس قدر کہ یہ بتانے کے لئے کہ مہمانی مسافر کا حق ہے اور اگر کسی جگہ کے لوگ یوں مہمانی نہ دیں تو دوسرے جائز ذرائع سے اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔مہمانی طلب کرنا سوال نہ ہوگا بلکہ حق ہوگا۔ہماری جماعت یہ حق ادا کرتی ہے سینکڑوں غیر احمدی آتے اور لنگر خانہ سے کھانا کھاتے ہیں ہم نے کبھی کسی کو منع نہیں کیا اور جب ہم ان کو مہمان نوازی کا حق دیتے ہیں تو ہمارے آدمی جا کر اگر یہ حق لیں تو یہ نا جائز نہیں ہے۔پس وہ ہمت اور جوش رکھنے والے نوجوان جو میری سکیم میں آنے سے باقی رہ جائیں وہ اپنے طور پر ایسے علاقوں میں چلے جائیں جہاں احمدیت ابھی تک نہیں پھیلی اور وہاں دورہ کرتے ہوئے تبلیغ کریں۔چند معمولی دوائیں ساتھ رکھ کر عام بیماریوں کا جن کے علاج میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا ، علاج بھی کرتے جائیں۔ایسا معمولی علاج انہیں سکھایا جاسکتا ہے اور ارزاں ادویہ مہیا کی جاسکتی ہیں۔یہ مزید ثبوت ہوگا اس بات کا کہ ہمارے نوجوان دین کے متعلق اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہیں اور انہیں خود بخود ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب اس قسم کے لوگ کسی جماعت میں پیدا ہو جائیں تو خواہ وہ کتنی ہی کمزور اور کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو دوسروں کو کھا جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کی جماعت کو سانپ قرار دیا ہے۔اصلی سانپ میں یہ عیب ہوتا ہے کہ وہ عقل نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایک کو کاٹ کھاتا ہے مگر جب ایک سپاہی دشمن پر گولی چلاتا ہے تو اس کے اس فعل کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کیا اس وقت وہ سانپ والا ہی کام نہیں کرتا؟ کرتا ہے مگر بے قصور شخص کے متعلق نہیں بلکہ کھلے دشمن کے متعلق اس لئے قابل قدر سمجھا جاتا ہے۔پس مومن کا کام دشمن کی طاقت کو توڑنا ہے اور اس کے فریب کے جال کو تباہ کر نامگر اس سے پہلے وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے جب وہ ایسا کر لیتا ہے تو جو شخص ایسے مومن کے خلاف اٹھتا ہے وہ یا تو اس کے زہر سے مارا جاتا ہے یا اس کے تریاق سے بچایا جاتا ہے۔نواں مطالبہ اس سلسلہ میں یہ ہے کہ جو لوگ تین ماہ دے سکیں کیونکہ بعض ایسے ملازم ہوتے ہیں جن کو اس طرح کی چھٹی نہیں ملتی جیسے مدرس ہیں یا جن کی تین ماہ کی رخصت جمع نہیں ہے یا جنہیں ان کا محکمہ تین ماہ کی رخصت نہ دینا چاہے ایسے لوگ ، جو بھی موسمی چھٹیاں یا حق کے طور پر ملنے والی چھٹیاں ہوں انہیں وقف کر دیں ان کو قریب کے علاقہ میں ہی کام پر لگا دیا جائے گا۔میں سمجھتا ہوں اگر دوست 60