تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 698
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جون 1939ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول طرف جماعت کو توجہ دلانی ضروری ہے۔اس تحریک کے دوسرے حصوں میں ایک کھانا کھانا اتنا اہم حصہ ہے کہ اس پر عمل کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ اپنے اندر کس قدر وسیع فوائد رکھتا ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ بعض چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی نہایت اہم اثر پیدا کرنے والی ہوتی ہیں۔جب کانگرسیوں پر مقدمات دائر ہونے لگے اور گاندھی جی بھی گرفتار ہوئے تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ وہ اپنا کوئی ڈیفنس پیش نہیں کریں گے اور سب کانگرسیوں کو ایسا ہی کرنا چاہئے۔عام لوگوں حتی کہ انگریزوں نے بھی یہ سمجھا کہ وہ ضد کرتے ہیں حالانکہ یہ ضد نہ تھی بلکہ اتنی چھوٹی سی بات اپنے اندر بہت سے فوائد رکھتی تھی لیکن میرا خیال ہے کہ بہت سے کانگرسیوں نے بھی اسے نہیں سمجھا ہو گا۔بات یہ تھی کہ اگر دفاع کی اجازت ہوتی تو گاندھی جی کے لئے تو ملک کے بہترین وکلاء مثلا سر سپرو اور مسٹر جیکر وغیرہ سب جمع ہو جاتے لیکن جو غر با گرفتار ہوتے ان کے دفاع کے لئے کوئی نہ جاتا۔گاندھی جی نے خیال کیا کہ اس طرح بے چینی پیدا ہوگی اور غربا خیال کریں گے کہ بڑے بڑے لوگوں کے لئے تو اس قدر انتظامات اور سامان مہیا ہو جاتے ہیں مگر غربا کو کوئی نہیں پوچھتا اور اگر سب کے لئے بڑے بڑے وکلاء پیش ہونا بھی چاہتے تو نہ ہو سکتے۔مقدمات تو سارے ملک میں چل رہے تھے وہ ہر جگہ کس طرح پیش ہو سکتے تھے اور اس طرح ان کی خواہش اور ارادہ کے باوجود شکوہ کا موقعہ مل باقی رہتا۔گو وہ شکوہ کتنا ہی غیر معقول اور خلاف عقل کیوں نہ ہوتا مگر لوگ یہی کہتے کہ غربا کو کوئی نہیں پوچھتا اور کثیر اخراجات کے باوجود شکایت باقی رہتی۔ہم نے یہاں اپنے مقدمات میں دفاع کی اجازت دی تھی اور گو ہم نے غلطی نہیں کی بلکہ مصلحاً ایسا کیا تھا مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ اس پر ہمارا کتنا روپیہ خرچ ہوتا رہا ہے۔کسی میں سور کسی میں دوسو اور کسی میں چار سو روپیہ خرچ ہوتا رہا ہے۔ہر مقدمہ میں کئی کئی گواہ پیش ہوتے ہیں، کئی کئی پیشیاں ہوتی ہیں لیکن اگر ہم دفاع پیش نہ کرتے تو ایک بھی پیسہ خرچ نہ ہوتا۔پیش ہوتے اور کہہ دیتے کہ جو کرنا ہے کر لو۔گاندھی جی نے بھی یہی کہا اور اس سے سارے ملک میں شور مچ گیا۔عام لوگوں نے خیال کیا کہ بائیکاٹ کے لئے ایسا کیا۔حالانکہ ان کی غرض یہ تھی کہ چھوٹے بڑے اور امیر غریب کا کوئی سوال نہ پیدا ہو اور روپیہ نہ خرچ ہو۔ہزاروں لاکھوں مقدمات تھے اگر روپیہ خرچ کیا جاتا تو بے شمار خرچ ہو جاتا اور پھر ملک میں بیداری بھی پیدا نہ ہوتی۔اسی طرح کھدر پوشی ہے۔یہ بھی ایسی ہی باتوں میں سے ایک ہے۔کوئی کہے کہ اگر کھد رمفید ہے اور یہ بھی ایک سادہ کپڑوں کی تحریک کا حصہ ہے تو تم اس تحریک پر کیوں عمل نہیں کرتے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا قانون اور ہے اور ہماری شریعت اور ہے۔گاندھی جی نے وہ 698