تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 59

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء گاؤں والوں نے اپنا حق پورا نہیں کیا اس میں گاؤں والوں کا قصور ہوگا مہمان بنے والوں کا نہیں ہوگا۔بعض نوجوانوں کو میں اس طرح استعمال کرنا چاہتا ہوں اور بعض کے لئے اور طریق اختیار کروں گا۔بہر حال ان کی آزمائش کی جائے گی اور دیکھا جائے گا کہ قربانی کے متعلق ان کے دعوے کیسے ہیں؟ میں امید کرتا ہوں ان کے دعوے ایسے نہیں ہوں گے جیسا کہ اپنے بازو پر شیر گدوانے والے کا دعویٰ تھا۔گودنے والے نے جب اس کے بازو پر سوئی ماری تو اس نے کہا کیا گودتے ہو؟ اس نے کہا دایاں کان گودتا ہوں وہ کہنے لگا کیا دائیں کان کے بغیر شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ گودنے والے نے کہا! رہتا ہے۔اس نے کہا پھر اسے چھوڑ و آگے چلو۔اس کے بعد جب اس نے سوئی ماری تو وہ پوچھنے لگا اب کیا گودتے ہو؟ اس نے کہا بایاں کان گودتا ہوں۔کہنے لگا اگر وہ بھی کٹ جائے تو شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا رہتا ہے۔وہ کہنے لگا اسے بھی چھوڑ دو۔اسی طرح اس نے ہر ایک عضو پر کہا۔آخر گودنے والے نے سوئی رکھ دی اور کہنے لگا اب کوئی شیر نہیں رہتا۔میں امید کرتا ہوں کہ جن نوجوانوں نے اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کیا ہے ان کا پیش کرنا اس رنگ کا نہ ہوگا بلکہ حقیقی رنگ کا ہوگا اور میں سمجھتا ہوں کہ جونو جوان میری یم کے ماتحت کام پر نہ لگائے جائیں ان میں سے بھی جو بے کا رگھروں پر بیٹھے ہیں اور جو باہمت ہیں انہیں خود بخود نکل جانا چاہئے وہ جائیں اور جہاں سے خدا انہیں دے کھا ئیں اور ساتھ تبلیغ کرتے رہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جہاں کوئی جائے وہاں سے اسے تین دن تک کھانا کھانے کا حق ہے۔اب یہ اسلامی طریق جاری نہیں ورنہ ہوٹلوں وغیرہ کی ضرورت ہی نہ رہے۔جہاں کوئی جائے وہاں کے لوگوں کا فرض ہو کہ اسے کھانا دیں۔اس قسم کا نظام تو جب خدا تعالیٰ چاہے گا قائم ہوگا اور اسی وقت حقیقی امن دنیا کو حاصل ہوگا۔آجکل تو موجودہ حالات پر ہی قناعت کرنی ہوگی۔اس موجودہ گری ہوئی حالت میں بھی میں سمجھتا ہوں زمیندار طبقہ مہمان نوازی کے فرائض کو نہیں بھولا اور یہ آسمانی فقیر جہاں کہیں بھی جائیں گے اول تو ضرورت نہ ہوگی کہ خود کہیں کہ کھانے کو دو لیکن اگر ضرورت پیش آئے تو ایسا کرنا بھی جائز ہے۔صحابہ نے خود مہمانی مانگی۔ایک جگہ کچھ صحابہ گئے تو وہاں ایک شخص ان کے پاس آیا اور آکر کہنے لگا کہ ایک آدمی کو سانپ نے ڈس لیا اس کا کوئی علاج جانتا ہے؟ ایک صحابی نے کہا میں جانتا ہوں مگر دس بکریاں لوں گا۔چنانچہ دس بکریاں لے کر انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور وہ شخص اچھا ہو گیا۔بعض ساتھیوں نے اس کے اس فعل پر اعتراض کیا اور بکریوں کی تقسیم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استصو کر لینے تک ملتوی کی گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور جب معاملہ پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا 59