تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 667
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 16 اپریل 1938ء آیت کے مضمون کی رو سے متاثر ہو کر خاتمہ کے الفاظ بے ساختہ خود بول دیئے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم | نے فرمایا کہ درست ہے، یہی الفاظ میں لکھو تو یہ بات اس کی ٹھوکر کا موجب ہوگئی۔اس نے کہا کہ یہ تو سن سنا کر الہام بنا لیتے ہیں۔پس نیکی انسان کے قلب میں پیدا ہوتی ہے ، دوسری چیزیں تو بطور امداد کے ہوتی ہیں۔اگر دل میں نیکی نہ ہو تو بیرونی چیزوں سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔نہیں ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ کالج کو ایسے طریق پر لانے کی ضرورت ہے کہ اس کے فارغ التحصیل نو جوانوں کو ہم باہر بھیج دیں تو وہ جاکر اپنا کام کر سکیں اور پھر ہم حسب ضرورت ان میں سے مبلغ منتخب کر کے ان سے کام لے سکیں۔یہ میچ نہیں کہ اپنا کام کاج چلانے کے بعد اسے چھوڑ نا مشکل ہوگا۔جس کے دل میں ایمان اور اخلاص ہوگا اسے جب بھی خدا تعالی کی آواز پہنچے گی خواہ دس ہزار ماہوار آمد کیوں نہ ہو اس پر لات مار کر آجائے گا۔لیکن جس کے دل میں میل ہوگی ، وہ کہہ دے گا کہ اب میری تجارت چل پڑی ہے، زمیندارہ کام چل نکلا ہے اب میں نہیں آسکتا۔ایسا شخص ہمارے اندر رہ کر بھی کام نہیں کر سکتا۔پس جو ہمارے کام کا ہے، وہ کہیں جائے گا نہیں اور جو کام کا نہیں اسے رکھ کر ہم نے کیا کرنا ہے۔اس وقت ہمارے پاس مبلغ کافی ہیں اور آئندہ کے لئے اگر کوئی صحیح معنوں میں مبلغ مل سکا تو اسے لے لیا جائے گا، ورنہ نہیں۔جو سچا مبلغ ہوگا اس کا رکھنا بھی بھی بوجھ کا موجب نہ ہوگا۔وہ اپنا گزارہ ساتھ لائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دنیا دار کا قصہ سنایا کرتے تھے کہ اس کے بہت سے نوکر چاکر تھے۔ایک دن اس نے خیال کیا کہ انہیں علیحدہ کر کے بچت کی صورت کی جائے لیکن رات کو اس نے خواب دیکھا کہ اس کا خزانہ کھلا پڑا ہے اور کچھ لوگ گڑے بھر بھر کر مال اس میں سے نکالتے جارہے ہیں۔اس نے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو اور میرا مال کہاں لے جارہے ہو۔انہوں نے کہا ہم فرشتے ہیں۔پہلے کچھ لوگوں کا رزق تمہارے پاس تھا مگر اب تم نے ان کو نکالنے کا ارادہ کیا ہے۔اس لئے ان کے حصہ کا رزق اب دوسری جگہوں پر بھیجا جائے گا تو رزق ہر ایک کا خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور جب عام حالت میں یہ ہے تو خدا تعالیٰ کے دین کا کام کرنے والے کیوں اپنا رزق ساتھ نہ لائیں گے۔کون ہے جو خدا تعالیٰ کا بندہ کہلائے اور پھر خدا تعالیٰ اسے فاقہ سے مرنے دے۔پس جو اس قسم کے مبلغ ہوں گے ، وہ خزانہ پر کوئی بار نہیں ڈالیں گے۔اگر ان کا خرچ ایک ہزار ہوگا تو خدا تعالی ڈیڑھ ہزار دے گا۔لیکن یہ طریق کہ ہر سال جبری طور پر مبلغ رکھے جائیں، چونکہ وقتی ضرورت پوری ہو چکی ہے، اب بدل دینا چاہئے۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد مبلغین باہر جا کر اپنا اپنا کام کریں۔اگر ان میں سے ہمیں کوئی موزوں آدمی نظر آیا تو اسے لے لیا جائے گا۔اول تو ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ، زمانہ طالب علمی سے ہی 667