تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 666
اقتباس از تقریر فرموده 16 اپریل 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول مولوی بقا پوری صاحب، مولوی نذیر محمد صاحب لائل پوری۔یہ ہمارے کالج کے پڑھے ہوئے نہیں ہیں مگر اپنے عمل سے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے دل میں دین کا جوش ہے۔بعض لوگ مبلغین میں بھی ہیں جو بہت اچھے ہیں اور موجودہ ضرورت کے لئے جس لیاقت کی ضرورت ہے اس میں وہ بڑھے ہوئے ہیں۔اس لئے مدرسہ اور کالج کی ضرورت تو بہر حال ہے۔صرف مبلغین کے انتخاب کے سسٹم میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ہم ان لوگوں کو لے لیتے ہیں جو اچھا بولنے والے ہوں۔حالانکہ نہ اچھے بولنے والوں سے یہ کام چلتا ہے اور نہ اچھے لکھنے والوں سے۔ضرورت ایمان اور اخلاص کی ہوتی ہے۔جب دل میں اخلاص ہو تو بولنا اللہ تعالیٰ خود ہی سکھا دیتا ہے۔دیکھو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اچھا بولنا نہیں آتا تھا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کہا بھی کہ میرے بھائی کو بولنا آتا ہے لیکن وہی موسیٰ علیہ السلام جنہیں بولنا نہیں آتا تھا اور جن کے متعلق مفسرین لکھتے ہیں کہ ان کی زبان میں لکنت تھی اور قرآن شریف سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کو تقریر کی مشق نہ تھی ، مگر جب خدا تعالیٰ نے ان کو نبوت دی، ایمان کا چشمہ ان کے اندر سے پھوٹ پڑا تو فرعون کے سامنے جا کر خود ہی تقریر کی۔حضرت ہارون بھی ساتھ تھے مگر ان کو ایک لفظ تک آپ نے بولنے نہیں دیا اور خود اس زور سے اور ایسی شان سے تقریر کی کہ بڑے سے بڑا مقرر تسلیم کرے گا کہ آپ نے کمال کر دیا۔دیکھ مصیبت زدہ عورتیں جن کو ایک لفظ بھی بولن نہیں آتا۔غیر مرد کے سامنے ایک لفظ منہ سے نہیں نکال سکیں بلکہ رشتہ داروں سے بھی بات نہیں کر سکتیں۔جب ان کا بچہ کسی مصیبت میں ہو تو ایسی تقریر کرتی ہیں کہ سننے والا دنگ رہ جاتا ہے تو ضرورت یہ ہوتی ہے کہ دل میں زخم ہو، بولنا خود بخود آ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ دعا سکھائی :26 تا 29) رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِى وَيَسْرْ لِي أَمْرِى وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي اس میں شرح صدر کو پہلے رکھا، جب شرح صدر ہو تو سہولتیں آپ ہی آپ پیدا ہو جاتی ہیں۔لیکن میرا یہ مطلب نہیں کہ سکول اور کالج بریکار ہیں۔یہ یقیناً ایسی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں جن کو ہمارے پرانے علماء نہیں کر سکتے اور اگر ان کو بند کر دیا جائے تو نقصان ہوگا۔ان کی ضرورت ہے تا کہ علوم ایسے رنگ پڑھائے جائیں کہ اگر کسی وقت کسی کے دل میں ایمان کا چشمہ پھوٹ پڑے تو اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔گو یہ میچ نہیں کہ علم ایمان دار بنا سکتا ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے انسان کا تعلق محض علم کوئی چیز نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی نے جب آپ پر الہام نازل ہورہا تھا۔ہو۔666