تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 658 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 658

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 30 دسمبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول محض پیسے کی زیادتی سے بھی یا ایک آنہ یا چار آنہ یا ایک روپیہ کی زیادتی سے بھی سابقون میں شامل ہو سکتے تھے۔اگر وہ ہر سال ایک پیسہ کی ہی زیادتی کریں تو سات سال میں سوا پانچ آنے زیادتی بنتی ہے۔اب میرے لئے یہ تسلیم کرنا بالکل ناممکن ہے کہ وہ شخص جو سات سال میں 35 روپے چندہ دے دیتا ہے وہ سوا پانچ آنے زائد چندہ نہیں دے سکتا تھا۔یقینا سات سال میں 35 روپے چندہ دینے والوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں ملے گا جو سات سال میں سوا پانچ آنے زائد نہ دے سکتا ہومگر افسوس ہے کہ معمولی سی غفلت کی وجہ سے لوگ سابقون الاولون کے ثواب سے محروم ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی شخص ایک پیسے کی بجائے ایک آنہ کی زیادتی کرے تو وہ یوں کر سکتا ہے کہ اگر اس نے پہلے سال پانچ روپے دیئے ہیں تو دوسرے سال پانچ روپے ایک آنہ دے دے، تیسرے سال پانچ روپے دو آنے ، چوتھے سال پانچ روپے تین آنے، پانچویں سال پانچ روپے چار آنے ، چھٹے سال پانچ روپے پانچ آنے اور ساتویں سال پانچ روپے چھ آنے۔اس طرح سات سالوں میں ایک روپیہ پانچ آنہ کی زیادتی ہوتی ہے اور یہ زیادتی کوئی ایسی نہیں جو نا قابل برداشت ہو بلکہ جو شخص سات سال میں ستر روپے چندہ دے سکتا ہے وہ آسانی سے ایک روپیہ نو آنہ سات سال میں اور بھی ادا کر سکتا ہے۔پس میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جو دوست یکساں چندہ دے رہے ہوں وہ ذراسی زیادتی کر کے سابقون الاولون میں شامل ہو سکتے ہیں۔اگر انہوں نے پچھلے سال پانچ روپے دیئے تھے تو اس سال وہ اپنے چندہ کو پانچ روپے ایک آنہ بنا سکتے ہیں یا اگر اتنی زیادتی بھی وہ نہیں کر سکتے تو پانچ روپے ایک پیسہ کر دیں کیونکہ سابقون کیلئے محض زیادتی کی شرط ہے مقدار کی تعیین نہیں۔بعض لوگ الفاظ غور سے نہیں سنتے اور اس وجہ سے دھو کہ کھا جاتے ہیں جیسے امانت فنڈ میں حصہ لینے والے اب شور مچارہے ہیں کہ ہمیں ہمارا روپیہ ہی واپس کیا جائے حالانکہ اگر وہ غور سے میرے خطبات کو پڑھتے تو متواتر کئی خطبات میں میں نے بتایا تھا کہ یہ میرا اختیار ہو گا کہ میں اگر چاہوں تو امانت روپیہ کی صورت میں ہی انہیں واپس کروں اور اگر چاہوں تو جائیداد کی صورت میں واپس کروں مگر انہوں نے اس بات کو نہ سمجھا اور اب شور مچارہے ہیں کہ ہمیں روپیہ ہی دیا جائے ، جائیداد ہم لینے کیلئے تیار نہیں۔اسی طرح چندہ میں زیادتی کے متعلق بھی بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید سابقون میں شامل ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ انہوں نے اگر پہلے پانچ روپے چندہ دیا ہے تو اب چھ دیں یا سات دیں۔حالانکہ سابقون میں شامل ہونے کے لئے ایسی کوئی شرط نہیں۔صرف زیادتی کی شرط ہے خواہ وہ پیسے سے ہو یا آنہ سے ہو یا زیادہ سے ہو بلکہ پیسہ سے کم ہمارے ہاں کوئی سکہ استعمال نہیں ہوتا ور نہ میں تو کہتا کہ ایک ادھی یا 658