تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 657
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود : 30 دسمبر 1938ء کی مجھے توفیق نہیں مگر ہم کب کہتے ہیں کہ زیادتی ضرور ایک روپیہ ہی کی ہونی چاہئے ہم نے زیادتی کے متعلق کوئی تعیین نہیں کی اور جب زیادتی کے متعلق ہماری طرف سے کوئی تعین نہیں تو یہ زیادتی پانچ روپے ایک آنہ دے کر بھی ہو سکتی ہے بلکہ پانچ روپے ایک پیسہ دے کر بھی ہو سکتی ہے اور اگر صرف ایک پیسہ کی زیادتی کی وجہ سے کوئی شخص سابقون الاولون میں شامل ہو سکتا ہو تو کیا یہ نادانی نہیں ہوگی کہ دس روپے چندہ دینے والا ہمیشہ دس روپے ہی دیتا رہے یا سو روپے چندہ دینے والا ہمیشہ سو روپیہ ہی دیتا رہے اور نہایت معمولی سی زیادتی کر کے وہ سابقون الاولون میں شامل نہ ہو جائے؟ ہماری جماعت کے ایک دوست ہیں جو نہایت ہی مخلص اور سادہ طبیعت کے ہیں۔کئی موقعوں پر میں نے ان میں سلسلہ سے اخلاص اور محبت کا تجربہ کیا ہے۔انہوں نے گزشتہ سال 115 روپے چندہ میں دیئے۔اس سال پھر انہوں نے 115 روپے کا وعدہ کیا۔اس پر میں نے انہیں لکھا کہ آپ بڑی آسانی سے اس سال 116 روپے دے کر سابقون الاولون میں شامل ہو سکتے ہیں۔چنانچہ گو میں نے انہیں ایک روپیہ کی زیادتی کیلئے ہی مشورہ دیا تھا مگر انہوں نے جوش اخلاص میں اپنے وعدہ کو اور زیادہ بڑھا دیا۔تو بعض لوگ اصل حقیقت کو سمجھے نہیں۔وہ سمجھتے ہیں شاید اگر ہم نے ایک سال پانچ روپے چندہ میں دیئے ہیں تو دوسرے سال جب تک دس روپے نہیں دیں گے، زیادتی نہیں تبھی جائے گی۔حالانکہ ہمیں تو ایمان کی زیادتی کا ثبوت چاہئے۔خواہ وہ ایک پیسہ سے ہو، خواہ ایک آنہ سے ہو، خواہ دو آنہ سے ہو، خواہ تین آنہ سے ہو، خواہ چار آنہ سے ہو اور خواہ وہ دس بیس یا سو دو سو روپیہ کے ذریعہ سے ہو۔تو کمی کرنے والوں کی حکمت میری سمجھ میں آجاتی ہے کیونکہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتے اور ہماری مالی حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم زیادتی کریں مگر جو ہر سال یکساں چندہ دیتے ہیں، ان کے اس فعل کی حکمت سمجھ سے بالا ہے جبکہ وہ نہایت ہی معمولی زیادتی کر کے سابقون الاولون میں شامل ہو سکتے ہیں۔مثلاً وہ شخص جس نے سات سالہ دور میں سے پہلے سال پانچ روپے چندہ دیا ہے وہ اگر ہر سال قاعدہ کے مطابق دس فی صدی کمی کرتا اور آخری تین سالوں میں چالیس فیصدی کی پر ٹھہر کر دو سال مسلسل چندہ دیتا تو وہ نو روپے بچاتا ہے، دس روپے دینے والا سات سال میں اس کمی کے نتیجہ میں اٹھارہ روپے بچاتا ہے، میں روپے دینے والا چھتیس روپے بچاتا ہے اور اگر کوئی سوروپے دینے والا تھا تو وہ سات سال میں ایک سو اسی روپے بچاتا ہے۔پس اس کے فعل کی حکمت تو میری سمجھ میں آسکتی ہے مگر یہ جو برابر چندہ دیتے چلے جاتے ہیں اور ہر سال مثلاً پانچ روپے یا دس روپے ہی چندہ دے دیتے ہیں ان کا یہ طریق میری سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ وہ 657