تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 651
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 16 دسمبر 1938ء ہے۔اس لئے جو دوست مولوی فاضل یا گریجوایٹ ہوں اور وہ بلا شرط اپنی تمام زندگی خدمت اسلام اور خدمت احمدیت کے لئے وقف کرنے کی خواہش رکھتے ہوں وہ اپنے نام جلد سے جلد پیش کریں۔درخواستوں کی ایک کافی تعداد جب ہمارے پاس پہنچ جائے گی تو اس کے بعد ان میں سے مناسب نو جوانوں کا انتخاب کیا جائے گا لیکن اس دوران میں ایک اور تجویز میرے ذہن میں آئی ہے اور میں اس کا بھی آج اعلان کر دینا چاہتا ہوں اور وہ تجویز یہ ہے کہ ان مولوی فاضلوں اور گریجوایٹوں کے علاوہ چند ایسے آدمیوں کی بھی ضرورت ہے جو عمر کے لحاظ سے ہیں سے چالیس سال تک کے ہوں۔مڈل پاس ہوں اور شادی شدہ ہوں یا ان کی شادی کی کہیں تجویز ہو چکی ہو اور چھ ماہ یا سال میں ان کی شادی ہو جانے والی ہو۔یہ جو واقفین زندگی ہوں گے ان کو گاؤں میں رکھا جائے گا۔پس یہ ایسے ہی آدمی ہونے چاہئیں جو محنت کرنے اور ہاتھ سے کام کرنے کیلئے تیار ہوں۔ان سے کام زیادہ تر مدارسی کا لیا جائے گا لیکن ان کو جو ٹرینینگ اور تربیت دی جائے گی اس میں زراعت کا سب قسم کا کام جیسے ہل چلانا، غلائی کرنی فصل کاٹنی نیز اس کے علاوہ لوہاراور بڑھئی کا کام بھی ان کو سکھایا جائے گا اور جب ٹریننگ کے بعد ان کو کہیں کام پر مقرر کیا جائے گا تو اس وقت بھی یہ کام بدستور جاری رہیں گے اور بعد میں بھی ہل چلانے کا کام اور لوہارے اور تر کھانے کا کام ان کے ساتھ لگا رہے گا۔فی الحال ایسے چھ آدمیوں کی ضرورت ہے۔ہماری جماعت میں بہت سے دوست ایسے ہیں جو مجھے لکھتے رہتے ہیں کہ ہم زیادہ پڑھے لکھے نہیں، ہماری تعلیم مڈل یا انٹرنس تک ہے مگر ہمیں بھی دین کی خدمت کا شوق ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اگر خدمت دین کا کوئی موقعہ ہو تو ہمیں اس سے محروم نہ رکھا جائے۔ایسے لوگوں کے لئے اب موقعہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو پیش کریں۔چاہے وہ مڈل پاس ہوں اور چاہے انٹرنس پاس، دونوں صورتوں میں وہ اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں مگر کم سے کم انہیں مڈل پاس ضرور ہونا چاہئے کیونکہ ان کا ایک کام مدرسی بھی ہوگا۔میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس تجویز کے مطابق ایک ایسی سکیم سوچ لی ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوگئی تو ہم بہت قلیل عرصہ میں تعلیم و تربیت کا ایک وسیع جال دنیا میں پھیلا سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کو تحریک جدید کے ماتحت ہی ٹریننگ دی جائے گی اور تحریک جدید کے ماتحت ہی انہیں تعلیم دی جائے گی اور جب وہ ٹریننگ حاصل کر لیں گے تو انہیں مختلف گاؤں میں مقرر کر دیا جائے گا۔ان کے وہاں کیا کام ہوں گے؟ یہ بعد میں بتایا جائے گا۔سر دست میں اسی قدر بتا دیتا ہوں کہ ان سے زیادہ تر ایسا کام لیا جائے گا جو ہاتھ سے کرنے والا ہوگا کیونکہ گاؤں میں ایسے لوگ کبھی مفید نہیں ہو سکتے جوصرف کتابی حد تک اپنی کوششوں کو محدود 651