تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 639

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 نومبر 1938ء کی زندگی بہت سادہ تھی اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر ساری دنیا کی ترقی کا سامان ہو ہی نہیں سکتا۔اسلام بے شک اس کی اجازت دیتا ہے کہ روپیہ کماؤ مگر اسے خرچ اس طرح کرنے کا حکم دیتا ہے کہ سب بنی نوع انسان اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔سادہ زندگی سے صرف بچت ہی نہیں ہوتی بلکہ اور بھی کئی فوائد ہوتے ہیں۔مہمان نوازی میں مدد ملتی ہے جو اعلیٰ درجہ کے اخلاق میں سے ایک ہے اور جسے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبوت کی تصدیق میں بطور ثبوت پیش کیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی مرتبہ وحی نازل ہوئی تو آپ بہت گھبرائے ہوئے گھر پہنچے اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو تسلی دی اور کہا کہ آپ میں یہ یہ خوبیاں ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو ہر گز ضائع نہیں کرے گا اور ان خوبیوں میں سے ایک آپ نے مهمان نوازی بیان کی۔پر تکلف کھانوں کا رواج ہو تو انسان کو مہمان نوازی میں بہت سخت دقت پیش آتی ہے۔ایک روپیہ میں ایک شخص کیلئے کھانا بمشکل تیار ہو سکتا ہے اس لئے مہمان نوازی نہیں ہو سکتی لیکن اس طرح ایک دوآنہ میں گزارہ ہو جاتا ہے اور ایک روپیہ کے صرف سے دس میں مہمانوں کو کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔تو سادہ زندگی میں مہمان نوازی بڑھ جاتی ہے۔مہمان سمجھتا ہے کہ میرا دوست تکلف نہیں کرے گا اس لئے دلیری سے وہاں چلا جاتا ہے اور میزبان بھی کوئی تکلف محسوس نہیں کرتا کیونکہ جو کچھ گھر میں موجود ہو ا کر رکھ سکتا ہے۔کسی کی دعوت کا مفہوم آج کل یہی سمجھا جاتا ہے کہ بہت پر تکلف کھانے تیار کروائے جائیں اور ذہنیت بھی ایسی ہوگئی ہے کہ اگر کسی کو بلا ؤ اور پلاؤ تیار نہ ہو تو اس کے ماتھے پر سلوٹیں پڑنے لگتی ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا کسی نے جوتیاں ماری ہیں۔دل میں کڑھتا اور کہتا ہے کہ دیکھو خبیث نے بلا کر میرا وقت ضائع کیا حالانکہ اس غریب نے محبت کی وجہ سے کہیں سے قرض لے کر یا کئی روز کا فاقہ کر کے دعوت کی اور اس کے گلے میں کھانا اس لئے پھنس رہا ہے کہ پلاؤ نہیں اس لئے غریب آدمی مہمان نوازی سے ڈرتے ہیں لیکن اگر اسی طرح مہمان نوازی ہو کہ جس طرح گھر میں کھانا پکتا اور کھایا جاتا ہے اسی طرح مہمان کے بھی پیش کر دیا جائے تو کسی کو کوئی تکلیف نہ ہوگی اور پیسہ بھی خرچ نہ ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک مومن کا کھانا دو کیلئے کافی ہوتا ہے۔کل ہی جب میں عید پڑھا کر آیا تو معلوم ہوا کہ چھ سات ہندو دوست آئے ہوئے ہیں جن میں سے ایک ولایت کے سفر میں ہم سفر تھے۔میں نے پہلے ان سے دریافت کرایا کہ مسلمانوں کے ہاں کا کھانا کھا لیتے ہیں یا نہیں تا اگر نہ کھائیں تو ہندوؤں کے ہاں ان کیلئے انتظام کرایا جائے مگر انہوں نے کہا کہ ہم تو کھا لیتے ہیں۔اس پر میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ ان کو لے آئیں اور سب بیویوں سے کہا کہ اپنے کھانے بھجواد میں گو اس میں 639