تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 632 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 632

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 25 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول بعض گر جاؤں میں مساوات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور وہ اس طرح کہ یہ سیٹ پندرہ روپیہ کرایہ کی ہے یا دس روپیہ کی اور یہ پانچ روپیہ کی ہے اور یہ دور و پیر کی ہے اور جو یہ کرایہ ادا کر سکے وہاں بیٹھ سکتا ہے۔مجھ سے ایک عیسائی نے کہا کہ ہمارے گرجا میں تو مساوات ہے۔میں نے کہا کہ اس مساوات سے تو وہی فائدہ اٹھا سکتا ہے جس کے پاس پندرہ روپے ہوں۔جس کے پاس کھانے کو بھی نہ ہو وہ وہاں کیسے بیٹھ سکتا ہے؟ اور یہ چیزیں کوئی اس طرح تو مسلمانوں میں داخل نہیں ہوئیں کہ مصلے بکنے لگیں کہ امام کے پیچھے کے مصلے کی یہ قیمت ہے اور دائیں بائیں کھڑے ہونے کی اتنی اور یہ تو نہیں ہوا کہ پہلی صف میں کھڑے ہونے کا کرایہ پانچ روپیہ اور دوسری کا چار یا تین مگر اور شکلوں میں عدم مساوات مسلمانوں میں بھی آگئی ہے۔اگر اسلامی حکومت ہوتی تو ماحول ہی ایسا ہوتا کہ یہ چیزیں پیدا نہ ہو سکتیں مگر چونکہ اسلامی حکومت قائم نہیں اس لئے ماحول کے مطابق مسلمانوں میں کچھ نہ کچھ رنگ دوسروں کا آگیا ہے اور میں نے محسوس کیا کہ تحریک جدید میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ مساوات کا احساس جماعت میں قائم اور زندہ رہے اور مر نہ جائے اور اس کیلئے سادہ زندگی کی تجویز میں نے کی اور اس کا ایک حصہ ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے تا کہ امیر اور غریب کا نمایاں امتیاز مٹ جائے۔جس حد تک اسے قائم رکھنے کی شریعت نے اجازت دی ہے اسے تو ہم نہیں مٹاتے۔شریعت نے یہ نہیں کہا کہ کوئی شخص اگر دس روپے کما کر لائے تو اس سے چھین لو اس لئے ہم یہ نہیں کر سکتے۔ہاں روپیہ کمانے والوں پر جو پابندیاں اس نے عائد کی ہیں مثلاً یہ کہ ان سے زکوۃ لو، چندے لو یہ کر لیتے ہیں۔ہاں مساوات قائم کرنے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالی جائے۔سب امیر غریب اکٹھے ہو کر ٹوکریاں اٹھائیں اور مٹی ڈھو ئیں تا اخوت اور مساوات کی روح زندہ رہے۔اسی طرح کھانے پینے کے متعلق پابندیاں ہیں۔جمعہ کے روز کیلئے بے شک میں نے پابندیوں کو ایک حد تک کم کر دیا ہوا ہے تا جو دوست اپنے احباب اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر کھانا چاہیں وہ ایسا کر سکیں مگر نسبتا اس دن بھی تنگی رکھی جائے۔باقی ایام کیلئے سب کو ایک ہی کھانے کا حکم ہے تا امیر غریب میں کوئی امتیاز نہ رہے۔اگر دوست اس پر پوری طرح عمل کریں تو امیر کو اپنے غریب بھائی کی دعوت پر کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی اور اس طرح دعوتوں میں زیادہ دوستوں کو بلانے کا موقعہ مل سکے گا۔پہلے اگر دس دوستوں کو بلا سکتے تھے تو سادگی کی صورت میں تمہیں چالیس کو بلا سکیں گے۔اس کے برعکس امیر جب دعوت کرتے تھے تو پانچ دس کھانے پکانا ضروری سمجھتے تھے اور چونکہ کسی کے پاس لا محدود دولت تو ہوتی نہیں اس 632