تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 631 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 631

تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 1938ء ہونے کو آئے ہیں اور میں شروع سے ہی یہ مسئلہ سمجھانے کی کوشش کرتا آیا ہوں مگر اب تک جماعت میں یہ قائم نہیں ہو سکا کہ ایسا ادب جو شرک کے مشابہ ہو یا جو ادب کا اظہار کرنے والے کو انسانیت کے مقام سے گرانے والا ہو، نا جائز ہے۔مثلاً یہاں کے لوگوں میں دستور ہے کہ جب کسی بڑے آدمی یا بزرگ کو ملنے کیلئے آتے ہیں تو جوتی اتار لیتے ہیں ، بات کرنے لگیں تو ہاتھ جوڑ لیتے ہیں اور بیٹھنے کو کہا جائے تو نیچے بیٹھ جاتے ہیں۔اسلامی آداب کے لحاظ سے اسے ادب نہیں بلکہ انسانیت کی ہتک سمجھا جائے گا اور اسے نا پسندیدہ قرار دیا جائے گا۔پچیس سال سے یہ بات میں سکھا رہا ہوں مگر ابھی تک اس پر عمل کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔اب تک یہی حالت ہے کہ بعض لوگ ملاقات کیلئے آتے ہیں تو جوتیاں اُتار دیتے ہیں اور جب اصرار کیا جائے کہ جوتی پہن کر آئیں تو پھر زمین پر بیٹھ جاتے ہیں اور پکڑ پکڑ کر اور اٹھا اٹھا کر انہیں کرسی یا فرش پر جیسی بھی صورت ہو بٹھانا پڑتا ہے لیکن بیٹھنے کے بعد جب بات شروع کرتے ہیں تو ہاتھ جوڑ لیتے ہیں اور اب تک ایسا ہو رہا ہے۔اسی ہفتہ میں ایک دوست ملنے آئے۔پہلی ملاقات ختم ہونے پر میں گھنٹی بجادیتا ہوں کہ تا دوسرے دوست آجائیں۔میں نے گھنٹی بجائی مگر کوئی نہ آیا پھر گھنٹی بجائی تو دفتر کا آدمی آگے آیا اور میرے پوچھنے پر کہ اگلے ملاقاتی کیوں نہیں آئے؟ بتایا کہ وہ نیچے ہی جوتا اتار آئے تھے اس لئے میں نے انہیں کہا تھا کہ یہ درست نہیں آپ جوتا پہن کر تشریف لائیں۔آخر وہ صاحب تشریف لائے اور آتے ہی زمین پر بیٹھ گئے اور مجھے باصرار ہاتھ پکڑ کرسی پر بٹھانا پڑا۔اس کے بعد جب انہوں نے بات شروع کی تو ہاتھ باندھ لئے اور جب بڑے اصرار کے ساتھ انہیں کہا گیا کہ ہاتھ کھول دیں تو انہوں نے کھولے۔وہ ہیں احمدی اور آٹھ دس سال سے احمدی ہیں معلوم ہوتا ہے وہ سمجھدار آدمی ہیں کیونکہ جب انہوں نے میرے چہرہ پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو بولے کہ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں نوکریوں میں ایسا کرنے کی عادت ہو جاتی ہے۔افسر توقع رکھتے ہیں کہ ان کے سامنے اسی طرح کیا جائے۔آپ بے شک ایسا نہ کرنے کو کہتے رہتے ہیں مگر ہمیں چونکہ عمل اس کے خلاف کرنا پڑتا ہے اس لئے آپ کی بات ذہن سے نکل جاتی ہے۔تو غیر مذاہب کے ساتھ میل جول کی وجہ سے کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو مسلمان بھی اسلامی سمجھنے لگ گئے ہیں۔حالانکہ وہ بالکل غیر اسلامی ہیں۔اسلام نے جو مساوات سکھائی ہے وہ کہیں اور نظر نہیں آتی مگر ہمارا ماحول چونکہ ہندو دانہ ہے اور او پر عیسائی حکومت ہے اور ان دونوں میں مساوات نہیں۔ہندوؤں میں تو چھوٹائی بڑائی کا فرق اتنا نمایاں ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔اسی طرح عیسائیوں میں ہے ان کے تو گرجوں میں بھی علیحدہ علیحدہ سیٹیں علیحدہ علیحدہ لوگوں کیلئے مخصوص ہوتی ہیں۔631