تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 630 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 630

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول بیان ہیں اور فقہی بحثوں کے سوا کچھ نہیں۔حتی کہ امام ابن قیم نے بھی جو صوفیا میں بھی اور فقہا میں بھی چوٹی کے آدمی سمجھے جاتے ہیں اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں لیکن بحث ان میں صرف اس قدر ہے کہ فقہ کی بنیاد کن حکمتوں پر ہے اور کس طرح تبدیل ہونے والے حالات کے ماتحت فقہ کے احکام میں بھی تبدیلی ہوسکتی ہے اور ان باتوں پر بحث کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ اسلام میں سیاست ضروری ہے اور کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو یکساں ہی چلتا جائے۔مختلف حالات پیش آمدہ کے ماتحت ان کی نوعیت بھی بدلتی رہتی ہے اور اسی کو سیاست کہتے ہیں۔نماز کیلئے وضو کا حکم ہے لیکن اگر کوئی بیمار ہو یا پانی میسر نہ آسکے تو تمیم بھی جائز ہے اور اگر نہ پانی مل سکے اور نہ مٹی، ایسے بھی مواقع آسکتے ہیں، تو وہ تمیم کے بغیر ہی نماز پڑھ سکتا ہے۔فرض کرو کوئی شخص قید ہے اور کسی نئی بنی ہوئی کشتی میں سمندر میں اسے لے جایا جارہا ہے تو اسے پانی نہیں مل سکتا کیونکہ بڑی کشتیاں بہت اونچی ہوتی ہیں اور ان میں بیٹھ کر سمندر میں وضو نہیں کیا جا سکتا اور مٹی بھی نہیں مل سکتی تو اسے نماز معاف تو نہیں ہو سکتی۔اس کیلئے یہی حکم ہے کہ وہ بغیر وضو اور بغیر تیم کے ہی نماز پڑھ لے یا کسی کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں۔یوں تو پانی بھی موجود ہو اور مٹی بھی مگر وہ وضو کر سکے نہ تیم تو وہ بغیر اس کے بلکہ سجدہ اور رکوع کے بغیر بھی نماز ادا کر سکتا ہے اور دل ہی دل میں نماز ادا کر سکتا ہے۔تو یہ احکام حالات کے ماتحت متغیر ہوتے رہتے ہیں۔پھر بعض اوقات بعض احکام میں لوگ خرابی پیدا کر دیتے ہیں اور اس وقت حاکم یا قاضی کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ دخل دے کر اس خرابی کو دور کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاقیں الگ الگ وقتوں میں دیئے جانے کی شرط رکھی ہے مگر آپ کی زندگی کے بعد جب لوگوں میں یہ رواج بکثرت ہونے لگا کہ بیوی پر ناراض ہوئے اور کہہ دیا کہ تجھے طلاقیں ہیں تو پہلے علماء نے ایسی طلاقوں کو ایک ہی طلاق قرار دیا لیکن جب یہ رواج ترقی پکڑتا گیا تو شریعت کی بے حرمتی کی روح کو دور کرنے کیلئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان کر دیا کہ اگر کوئی ایک دفعہ ہی بہت سی طلاقیں دے گا تو میں اسے تین ہی سمجھوں گا تو جس حد تک اسلام کے احکام میں متغیر حالات میں تبدیلی کی اجازت ہے ان میں تبدیلی کی جاسکتی ہے اور اسی کا نام سیاست ہے، اس کا نام حکمت اور اسی کا نام فلسفہ ہے۔پس مذہب کیلئے بھی ایک سیاست کی ضرورت ہوتی ہے۔اور یہ جو سادہ زندگی کی تحریک میں نے تحریک جدید کے سلسلہ میں کی تھی اس کا ایک حصہ مذہبی سیاست کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یعنی اس زمانہ میں چونکہ اسلامی حکومت نہیں ہے اس لئے وہ مساوات جسے حکومتیں ہی قائم کر سکتی ہیں اس زمانہ میں قائم نہیں ہو سکتی اور آج کل مسلمان امیر و غریب میں ویسا ہی امتیاز کرنے لگے ہیں جیسا ہندو یا عیسائی کرتے ہیں کیونکہ مسلمانوں کی اپنی حکومت نہیں اور ان کے سامنے کوئی نمونہ نہیں۔میری خلافت پر اب پچیس سال پورے 630