تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 629 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 629

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اوّل اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 نومبر 1938ء سادہ زندگی خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 1938ء گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں میں نے تحریک جدید کے سال پنجم کے چندے کے حصہ کے متعلق اعلان کیا تھا اور آج میں اسی کے ساتھ تعلق رکھنے والے ایک اور مطالبہ کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا ہوں اور وہ سادہ زندگی کا مطالبہ ہے۔سادہ زندگی کا مطالبہ اپنے اندر دو شقیں رکھتا ہے۔ایک شق تو اس کی سیاسی مگر سیاسی مذہبی ہے، حکومتوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی سیاست نہیں بلکہ مذہب کے ساتھ تعلق رکھنے والی سیاست مراد ہے، ہر تحریک جو کی جاتی ہے وہ کسی نہ کسی قانون کے ماتحت ہوتی ہے اور جس قانون کے ماتحت وہ کام کر رہی ہوتی ہے اسے اس کی سیاست کہتے ہیں۔سیاست کے معنی دراصل ایک مکمل انتظام اور ایسے اصول کے ماتحت کسی چیز کو چلانے کے ہیں جو بدلنے والے حالات کا لحاظ رکھتا چلا جائے۔آج کل لوگوں نے سیاست کے معنی یا تو جھوٹ سمجھ رکھے ہیں یا پھر اس کے معنی حکومت کے سمجھ لئے ہیں۔اس کا لئے کئی نادان مخالف ہمارے متعلق بھی یہ کہتے رہتے ہیں کہ دیکھو جی یہ سیاست میں پڑ گئے ہیں۔حالانکہ دنیا میں کوئی معقول چیز اپنی ذاتی سیاست کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔کون سا وہ معقول کام ہے جو بغیر کسی خاص انتظام کے چل سکے اور اسی چیز کا نام سیاست ہے۔حکومتوں کو حکومت کے چلانے کے لئے سیاست کی ضرورت ہوتی ہے، مذاہب کو مذاہب کے چلانے کیلئے تعلیمی محکموں کو تعلیم کی ترقی کیلئے ایک سیاست کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح ہر محکمہ میں علیحدہ سیاست کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وجہ سے جب حکومت کیلئے سیاست کا لفظ بولا جائے تو اس کے اور معنی ہوں گے، مذہب کیلئے اور اور تعلیم کیلئے اور معنے ہوں گے۔نادان نادانی یا دشمن دشمنی کی وجہ سے اس کے کوئی اور معنی سمجھ لیتا اور پھر ہم پر اعتراض کرتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہر نظام ایک سیاست کا محتاج ہوتا ہے اور سیاست کے معنی حکمت کے ہوتے ہیں جو نظام کے پیچھے عمل کر رہی ہوتی ہے اور یہ معنی میں آج نہیں کر رہا بلکہ آج سے سینکڑوں سال پہلے مسلمان علماء نے ایسی کتابیں لکھی ہیں جن میں اس موضوع پر بڑی بڑی بخشیں کی ہیں کہ مذہب میں کس حد تک سیاست کا دخل ہو سکتا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کتابوں کا مقصد یہ ہے کہ مذہب میں جھوٹ کا استعمال جائز ہے یا یہ کہ حکومت میں مذہب کس طرح دخل دے سکتا ہے بلکہ ان کتابوں میں مضمون صرف فقہ کے 629