تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 628
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ملازمت مل گئی، ایسے تمام لوگوں سے پہلے سالوں کا چندہ بھی قبول کر لیا جائے گا کیونکہ پہلے انہوں نے مجبوری سے اس میں حصہ لینے سے اجتناب کیا تھا جان بوجھ کر حصہ لینے سے انکار نہیں کیا تھا۔ہاں جنہیں گزشتہ سالوں کے چندہ میں شریک ہونے کی توفیق تھی اور وہ ان دنوں برسر کا ر بھی تھے مگر انہوں نے جان بوجھ کر حصہ نہیں لیا انہیں اجازت نہیں۔وہ صرف نئے سال میں شامل ہو سکتے ہیں پچھلے سالوں میں نہیں۔یا درکھو! ایک بہت بڑا کام ہے جو ہمارے سامنے ہے، بہت بڑی مشکلات ہیں جنہیں میں اپنے سامنے دیکھتا ہوں، ایک عظیم الشان جنگ ہے جو شیطان سے لڑی جانے والی ہے، جو لوگ اس میں حصہ لیں گے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کریں گے اور جو لوگ حصہ نہیں لیں گے وہ اپنے اعراض سے خدا تعالیٰ کے کام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے کیونکہ یہ خدا کا کام ہے اور اس نے بہر حال ہو کر رہنا ہے۔قضائے آسمانست ایں بہر حالت شود پیدا پس یہ کام ہو کر رہے گا۔اگر تم نہیں کرو گے تو تمہارا ہمسایہ کرے گا اور اگر وہ نہیں کرے گا تو کوئی اور کرے گا۔بہر حال غیب سے اس کی ترقی کے سامان ہوں گے۔پچھلا پچاس سالہ تجربہ تمہارے سامنے ہے۔دشمن نے لا کھ رکاوٹیں ڈالیں، اس نے کروڑ حیلے کئے ، اس نے طعنے بھی دیئے، اس نے گالیاں بھی دیں، اس نے برا بھلا بھی کہا ، بڑے بڑے لوگ مخالفت کے لئے بھی اٹھے اور انہوں نے چاہا کہ اس سلسلہ کی ترقی کو روک دیں مگر خدا کا کام ہو کر رہا اور اس نے الہام کر کے ایسے لوگ کھڑے کر دیئے جو اس کے دین کے انصار بنے اور یقیناً اب بھی ایسا ہی ہو گا لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی کمزور ثابت نہ ہو بلکہ تم میں سے ہر شخص اپنے عمل سے ثابت کر دے کہ جب امتحان کا وقت آیا تو تم نے اپنے اسلام اور احمدیت کے لئے وہ قربانی کی جس قربانی کا تم سے اسلام مطالبہ کرتا تھا او تم اپنے ایمان اور اپنے عمل اور اپنی قربانیوں کے لحاظ سے گزشتہ جماعتوں سے پیچھے نہیں رہے بلکہ ان سے آگے بڑھے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری جماعت کے دوستوں کے دلوں کو کھولے تا وہ اس پانچ ہزار سپاہیوں کے لشکر میں شمولیت کا فخر حاصل کر سکیں۔جس کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ایک کشف کے ذریعہ دے چکے ہیں۔اللهم آمين۔اللهم آمین۔(مطبوعہ افضل 24 نومبر 1938ء) 628