تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 611
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1938ء اور ایسا رنگ پیدا کر دے جو ان مقاصد کو پورا کرنے میں مد ہو جن مقاصد کو پورا کرنے کیلئے احمدیت قائم ہوئی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان مقاصد کا پورا ہونا صرف احمدیت کیلئے ہی خاص طور پر مفید نہیں بلکہ اسلام کیلئے بھی مفید اور بابرکت ہے اور پھر صرف اسلام کیلئے ہی ان مقاصد کا پورا ہونا مفید نہیں بلکہ جس قسم کا مذہبی، سیاسی، تعلیمی، تمدنی اور اقتصادی ماحول ہم پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ دنیا کیلئے بھی مفید اور ضروری ہے۔یہ عظیم الشان ماحول ہم نے پیدا کرنا ہے مگر ہماری موجودہ حالت تو ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کیا پڑی اور کیا پڑی کا شوربہ۔ہماری تعداد نہایت قلیل ہے اور جب ہم کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں ایسا انقلاب پیدا کر کے رہیں گے تو دنیا ہم پر ہنستی ہے اور کہتی ہے یہ پاگل ہو گئے ہیں مگر آج تک دنیا میں جس قدر عظیم الشان کام ہوئے ہیں وہ ایسے ہی لوگوں سے ہوئے ہیں جنہیں پاگل کہا گیا اور ایسی ہی جماعتوں نے انقلاب بپا کیا ہے جنہیں مجنون قرار دیا گیا۔پس پاگل کا لقب ہمارے لئے کوئی گالی نہیں بلکہ خوشی کا موجب ہے کیونکہ ہم سجھتے ہیں ہماری انبیاء سابقین کی جماعتوں سے ضرور ایک گہری مشابہت ہے کیونکہ جس طرح انہیں پاگل کہا گیا اسی طرح لوگ آج ہماری جماعت کو پاگل کہتے ہیں لیکن بہر حال ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ احمدیت کی ترقی کیلئے ایک عظیم الشان جدو جہد کی ضرورت ہے اور جیسے جیسے احمدیت کو ترقی ہوگی ویسے ویسے اسلام بھی ترقی کرتا چلا جائے گا اور جوں جوں اسلام دنیا میں ترقی کرے گا توں توں دنیا بھی مذہبی اور سیاسی اور تمدنی اور اقتصادی پہلوؤں سے ترقی کرتی چلی جائے گی کیونکہ اسلام باقی اقوام کو مٹاکر مسلمانوں کو نہیں بڑھا تا بلکہ باقی اقوام کو بڑھا کر مسلمانوں کو اور آگے لے جاتا ہے۔چنانچہ جب کبھی دنیا میں اسلامی اصول پر ترقی ہوگی ہندوؤں سکھوں اور عیسائیوں کو بھی ترقی ہوگی اور نہ صرف ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کو ترقی ہوگی بلکہ دنیا کے ہر مذہب کے متبع کیلئے ترقی کے راستے کھولے جائیں گے اور ہر شخص کیلئے خواہ وہ کسی مذہب وملت کا پابند ہوترقی کی طرف قدم بڑھانے کی گنجائش رکھی جائے گی“۔غرض احمدیت کی ترقی کے ساتھ اسلام کی ترقی اور اسلام کی ترقی کے ساتھ دنیا کی ترقی وابستہ ہے اور احمدیت کی ترقی کیلئے دو کام کرنے نہایت ضروری ہیں۔ایک تعلیم و تربیت کا اور دوسر تبلیغ واشاعت کا۔ان کے بغیر جماعت نہ پھیل سکتی ہے اور نہ اس کے پھیلنے کا کوئی فائدہ ہے۔یعنی تبلیغ کے بغیر جماعت کی ترقی نہیں ہو سکتی اور صحیح تربیت کے بغیر احمدیت کا پھیلنا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔فرض کرو احمدی ساری دنیا میں پھیل جائیں مگر مذہبی، سیاسی، اقتصادی، تمدنی اور تعلیمی ماحول وہی رہے جو پہلے تھے تو ایسی احمدیت کے پھیلنے کا کیا فائدہ؟ اور اگر احمدیوں میں وہ روح نہ ہو جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے اور ایک وو 611