تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 595
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود 0 11 نومبر 1938ء اور اسے سینکڑوں ہزاروں سالوں تک پھیلانے کا انتظام کر دیں اور اس عظیم الشان کام کو دیکھتے ہوئے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس کیلئے عظیم الشان جد و جہد کی ضرورت ہے جو بیدار کرنے والوں سے مستغنی ہو۔جو بیداری دھماکوں سے پیدا ہو وہ بھی کیا بیداری ہے؟ جا گنا وہی مفید ہوتا ہے جو انسان جاگتا اور پھر جاگتا ہی رہتا ہے۔جو بیدار ہوتا اور پھر سو جاتا ہے وہ افیونی کی طرح ہے۔دھماکوں سے بیدار ہونا اور پھر سو جانا بہت بڑا مرض ہے اور مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کی بیداری اس وقت تک دھماکوں کی بیداری ہے۔تحریک جدید کے شروع میں میں نے جماعت کو اس طرف خاص طور پر متوجہ کیا تھا مگر افسوس ہے کہ اس سبق کو جماعت نے یاد نہیں کیا۔جب تحریک جدید کا اعلان کیا گیا ہے اس وقت جماعت میں ایسی بیداری پیدا ہو چکی تھی کہ میں نے اس کا صحیح اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے جب اپنے محدود علم کے مطابق علم جماعت سے ستائیس ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تین سال کیلئے یہ رقم درکار ہے تو جماعت نے ایک لاکھ سات ہزار کے وعدے کئے۔حالانکہ وعدے کرنے والوں میں سے بہتوں نے ابھی صرف پہلے ہی سال کا حصہ دیا تھا۔کتنی عظیم الشان بیداری تھی مگر یہ دھماکے کی بیداری تھی۔دشمن نے ایک تھپڑ رسید کیا تھا جس سے جماعت میں ایک سنسنی پیدا ہوئی لرزہ پیدا ہوا اور وہ بیدار ہوگئی۔میں نے اس وقت یہ کہا تھا کہ جو بیداری مار سے پیدا ہو وہ کوئی بیداری نہیں۔وہ خدا تعالیٰ کیلئے نہیں بلکہ دشمن کیلئے ہوتی ہے اور اس کا ثواب اگر دشمن کو مل سکتا تو اسے ملتا۔غرض 1934 ء کے آخر میں جماعت میں جو بیداری ہوئی اس کے نتیجہ میں جماعت نے ایسی غیر معمولی قربانی کی روح پیش کی جس کی نظیر اعلیٰ درجہ کی زندہ قوموں میں بھی مشکل سے مل سکتی ہے۔کمزور قوموں سے مقابلہ کا کوئی سوال ہی نہیں۔یہ قربانی زندہ قوموں کے مقابل پر بھی فخر کے ساتھ پیش کی جاسکتی ہے مگر وہ تھپڑ اور مار کے نتیجہ میں تھی۔دشمن کے تھپڑ سے دوست یک دم گھبرا گئے اور انہوں نے محسوس کیا کہ ہم پیسے جانے لگے ہیں۔تب خیال کیا کہ موت سے پہلے کچھ خرچ کر لو۔اس کے بعد دوسرا اور تیسرا سال آیا اور میں نے ہر موقعہ پر سمجھایا کہ حقیقی قربانی دائمی قربانی کا نام ہے مگر تھیٹر کی چوٹ اور صدمہ جوں جوں کم ہوتا گیا، جوں جوں دشمن کو ذلت نصیب ہوتی گئی ، جماعت کے لوگ بھی لیٹنے لگے اور بعض تو غفلت کی نیند سو گئے۔حتی کہ جب میں نے دوسرے دور کی تحریک کی تو بعض لوگوں نے خیال کر لیا کہ ہم اپنا فرض ادا کر چکے ہیں اور اب ہمیں کسی اور آواز کے سننے کی ضرورت نہیں۔میں مانتا ہوں کہ تحریک جدید کے پہلے دور میں احباب نے غیر معمولی کام کیا اور ہم اسے فخر کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔مؤرخ آئیں گے 595