تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 573
تحریک جدید-ایک ابی تحریک۔۔۔جلد اول تقریر فرمود 13 ستمبر 1938ء نے اس قدر روایات بیان نہیں کیں کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی عظمت کو سمجھتے تھے لہذا آپ انتظار میں رہتے تھے۔اس قسم کا انتظار وقت کا ضیاع نہیں ہوتا بلکہ اس کے علم اور معرفت میں ترقی کا ذریعہ ہوتا ہے اور علم اپنی اہمیت سے آتا ہے۔جب تک کسی علم کی اہمیت کسی شخص کے نزدیک نہ ہو اس وقت تک وہ اسے حاصل کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ہندوستان میں جھوٹ بہت بولا جاتا ہے بلکہ ایک طرح سے لوگ عادی ہو گئے ہیں۔میری غرض مطالبہ وقف زندگی سے ایک یہ بھی ہے کہ جھوٹ کو مٹایا جائے اور خواہ کتنا چھوٹے سے چھوٹا ہوا گر کسی شخص کے متعلق جھوٹ ثابت ہو تو اسے ہر ممکن سزادی جائے گی۔اس کے معاہدہ وقف زندگی تو ڑ دینے کے علاوہ جماعت میں ہی اعلان ہو سکتا ہے۔خواہ وہ دین کی خاطر کرے یا کسی اور چیز کی خاطر بلکہ دین کی خاطر جھوٹ بولنا تو سخت پاگل پن ہے کیونکہ سلسلے کا فائدہ جھوٹ سے وابستہ نہیں ہے۔اسلام کی بنیاد قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (الاحزاب : 71) پر ہے۔جھوٹ کے خلاف اس قدر احساس ہونا چاہئے اور اگر کسی وقت واقفین زندگی میں سے کسی سے جھوٹ سرزد ہو تو اسے خود آ کر کہنا چاہئے کہ میرا وقف منسوخ کر دیں، میں نے جھوٹ بولا ہے اور پھر اس کی سزا برداشت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔واقفین زندگی کو یہی کریکٹر جماعت احمد یہ میں بھی 66 پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔“ ( مطبوعه الفضل 20 ستمبر 1938 ء ) 573