تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 559
اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم اپریل 1938ء تحریک جدید- ایک الی تحریک۔۔۔جلد اول پس کوئی نیا پروگرام تمہارے لئے جائز نہیں۔پروگرام تحریک جدید کا ہی ہوگا اور تم تحریک جدید کے والٹر ز ہو گے۔تمہارا فرض ہوگا کہ تم اپنے ہاتھ سے کام کرو تم سادہ زندگی بسر کرو تم دین کی تعلیم دو تم نمازوں کی پابندی کی نوجوانوں میں عادت پیدا کر و تم تبلیغ کے لئے اوقات وقف کرو اسی طرح ہر جگہ ان کا یہ کام ہوگا کہ وہ سلسلہ کا لٹریچر پڑھیں ، نو جوانوں کو دینی اسباق دیں۔مثلاً صبح کے وقت یا کسی اور وقت ایک دوسرے کو پڑھایا جائے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھنے کے لئے کہا جائے اور پھر ان کا امتحان لیا جائے۔اسی طرح وہ خدمت خلق کے کام کریں اور خدمت خلق کے کام میں یہ ضروری نہیں کہ مسلمان غریبوں اور مسکینوں اور بیماروں کی خبر گیری کی جائے بلکہ اگر ایک ہندو یا سکھ یا عیسائی یا کسی اور مذہب کا پیروکسی دکھ میں مبتلا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اس کے دکھ کو دور کرنے میں حصہ لو۔“ "" پس یہ مت خیال کرو کہ تمہارے ممبر کم ہیں یا تم کمزور ہو بلکہ تم یہ سمجھو کہ ہم جو خادم احمد بیت ہیں ہمارے پیچھے اسلام کا چہرہ ہے۔تب بے شک تم کو خدا تعالی کی طرف سے ایک ایسی طاقت ملے گی جس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا۔پس تم اپنے عمل سے اپنے آپ کو مفید وجود بناؤ۔“ وو اسی طرح تمہیں چاہئے کہ تم تحریک جدید کے متعلق میرے گزشتہ خطبات سے تمام ممبران کو واقف کرو اور ان سے کہو کہ وہ اور وں کو واقف کریں اور پھر ہر شخص اپنی ماں ، اپنی بہن، اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو ان سے واقف کرے۔اسی طرح میں لجنات اماءاللہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس رنگ میں کام کریں اور جہاں جہاں لجنہ ابھی تک قائم نہیں ہوئی وہاں کی عورتیں اپنے ہاں لجنہ اماء اللہ قائم کریں اور وہ بھی اپنے آپ کو تحریک جدید کی والٹیر زسمجھیں اور اسلام کی ترقی کے لئے اپنی زندگی کو وقف قرار دیں۔اگر تم یہ کام کرو تو گودنیا میں تمہارا نام کوئی جانے یا نہ جانے اور اس دنیا کی زندگی کی حقیقت ہے ہی کیا، چند سال کی زندگی ہے اور بس ؟ مگر خدا تمہارا نام جانے گا اور جس کا نام خدا جانتا ہو اس سے زیادہ مبارک اور خوش قسمت اور کوئی نہیں ہو سکتا۔(مطبوعہ الفضل 10 اپریل 1938ء) 559