تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 558

اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم اپریل 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اور ان کے قلوب پر اس کا نقش کر دیا جائے کہ جو شخص کام کرتا ہے وہ عزت کا مستحق ہے اور جو کام نہیں کرتا بلکہ نکما رہتا ہے وہ اپنی قوم اور اپنے خاندان کے لئے عار اور نگ کا موجب ہے اور یہ کہ معمولی دولت مند یا زمیندار تو الگ رہے۔اگر ایک بادشاہ یا شہنشاہ کا بیٹا بھی نکما رہتا ہے تو وہ بھی اپنی قوم اور اپنے خاندان کے لئے عار کا موجب ہے اور اس چہار کے بیٹے سے بدتر ہے جوکام کرتا ہے، تو یقینا الی نسل درست ہوسکتی ہے اور پھر وہ نسل اپنے سے اگلی نسل کو درست کر سکتی ہے اور وہ اپنے سے اگلی نسل کو۔یہاں تک کہ یہ باتیں قومی کریکٹر میں شامل ہو جائیں اور ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائیں“۔" تو اولادوں کی درستی اور اصلاح اور نو جوانوں کی درستی اور اصلاح اور عورتوں کی درستی اور اصلاح یہ نہایت ہی ضروری چیز ہے۔اگر دوست چاہتے ہیں کہ وہ تحریک جدید کو کامیاب بنا ئیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح ہر جگہ لجنہ اماء اللہ قائم ہیں اسی طرح ہر جگہ نو جوانوں کی انجمنیں قائم کریں۔قادیان میں بعض نوجوانوں کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے اجازت وو حاصل کرتے ہوئے ایک مجلس خدام الاحمدیہ کے نام سے قائم کر دی ہے۔“ میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تحریک جدید کے اصول پر کام کرنے کی عادت ڈالیں، نوجوانوں کے اخلاق کی درستی کریں، انہیں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی ترغیب دیں، سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کریں، دینی علوم کے پڑھنے اور پڑھانے کی طرف توجہ کریں اور ان نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کریں جو واقعہ میں کام کرنے کا شوق رکھتے ہوں۔بعض طبائع صرف چودھری بننا چاہتی ہیں۔کام کرنے کا شوق ان میں نہیں ہوتا۔ایسوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں“۔وو اگر تم ہر بات مجھ سے دریافت کرو گے اور اپنی عقلوں پر زور نہیں ڈالو گے تو تمہارے قوائے دماغیہ کمزور اور بے کار ہو جائیں گے کیونکہ جس عضو سے کام نہ لیا جائے وہ بے کار ہو جاتا ہے۔ہاتھ سے کام نہ لیا جائے تو ہاتھ خشک ہو جاتا ہے، دماغ سے کام نہ لیا جائے تو دماغ کمزور ہو جاتا ہے۔پس فرماتا ہے اگر تم ہم سے پوچھو گے تو گو ہم تمہیں وہ بات بتادیں گے مگر پھر تم فقہیہ نہیں رہو گے بلکہ نقال بن جاؤ گے۔حالانکہ قوم کی ترقی کے لئے فقیہوں کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے مگر وہ یہ بھی یاد رکھیں کہ کام تحریک جدید کے اصول پر کریں۔میں نے بارہا کہا ہے کہ الْإِمَامُ جُنَّةٌ وَيُقَا تَلُ مِنْ وَرَائِهِ تمہارا کام بے شک یہ ہے کہ تم دشمن سے لڑو گے مر تمہارا فرض ہے کہ امام کے پیچھے ہو کر لڑو۔558