تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 557
زیک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول الی تحریک۔۔۔جلد اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم اپریل 1938ء تحریک جدید میں کامیابی عورتوں اور بچوں کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتی وو خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1938ء ایسے ذرائع کو اختیار کرنا چاہئے جن سے قوم کے دماغ کی تربیت ہوا اور خصوصاً نوجوانوں کے دماغ کی تربیت ہو کیونکہ زیادہ تر کاموں کی ذمہ داری آئندہ نوجوانوں پر ہی پڑنے والی ہوتی ہے۔اگر نو جوانوں میں بری باتیں پیدا ہو جائیں۔مثلاً سکھے پن کی عادت پیدا ہو جائے یا ستی کی عادت پیدا ہو جائے یا جھوٹ کی عادت پیدا ہو جائے تو یقیناً آج نہیں تو کل وہ قوم تباہ ہو جائے گی۔بالخصوص جھوٹ تو ایسا خطرناک مرض ہے کہ یہ انسان کے ایمان کو جڑ سے اکھیڑ دیتا ہے۔بعض دفعہ پندرہ پندرہ سال تک ہم ایک شخص کے متعلق یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ بڑا بزرگ اور راستباز انسان ہے مگر پھر پتہ لگتا ہے کہ وہ بڑا کذاب ہے۔دیکھتا کچھ ہے اور بیان کچھ کرتا ہے مگر یہ باتیں بچپن میں ہی پیدا ہوتی ہیں۔پس نو جوانوں میں اگر اس قسم کی باتیں پیدا کر دی جائیں اور ان کے اخلاق کو صحیح رنگ میں ڈھالا جائے تو یقیناً قوم کی ترقی میں بہت مدد مل سکتی ہے۔مثلاً میں نے تحریک جدید جاری کی، اس میں اگر غور کر کے دیکھا جائے تو کامیابی عورتوں اور بچوں کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتی۔اگر عورتیں اور بچے ہمارے ساتھ تعاون نہ کریں تو یقیناً جماعت کا ایک حصہ اس پر عمل کرنے سے رہ جائے گا لیکن اگر عور تیں اور بچے اس میں شامل ہوں تو ہمارے کام میں بہت سہولت پیدا ہو سکتی ہے۔مثلاً سادہ کپڑے ہیں یا زیورات کی کمی ہے یا ایک خاص عرصہ تک زیور نہ بنوانا ہے۔اب جب تک عورتیں اس میں شریک نہ ہوں ان باتوں پر کس طرح عمل ہو سکتا ہے یا ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے۔اس میں اگر بچے اور نو جوان شریک نہ ہوں تو یہ سکیم کس طرح چل سکتی ہے یا مثلا نکمانہ رہنا ہے۔اب نکھے پن کی عادت بچوں میں ہی ہو سکتی ہے بڑے تو اپنی اپنی جگہ کام کر رہے ہوتے ہیں اور ان میں سے کئی آسودہ حال ہوتے ہیں لیکن ان کی نئی نسل یہ کہنا شروع کر دیتی ہے کہ ہمارے ابا نواب، ہمارے ابا فلانے ، ہم فلاں کام کیوں کریں؟ اس میں ہماری ہتک ہے اور پھر تمام خرابیاں اسی سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔حالانکہ اگر ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی جائے 557