تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 555
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه عید الاضحیه فرموده 11 فروری 1938ء تحریک جدید کے اصول کے پابند بنیں خطبہ عیدالاضحیہ فرمودہ 11 فروری 1938ء بہت سے لوگ ہیں جو وعدے کرتے ہیں مگر انہیں پورا نہیں کرتے ، بہت سے لوگ ہیں جو وعدے کرتے ہیں مگر انہیں میعاد کے آخر میں پورا کرتے ہیں، بہت سے لوگ ہیں جو وعدے کرتے ہیں مگر وعدوں کو پورا کرنے کے سامان بہم نہیں پہنچاتے۔میں نے تحریک جدید کے شروع میں ہی کہا تھا کہ اگر تم کوئی وعدہ کرتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم وہ ماحول بھی پیدا کرو جس کے ماتحت تم اپنے وعدے کو آسانی سے پورا کر سکو۔اگر تم صرف ایک ہی کھانا نہیں کھاتے بلکہ کئی عمدہ سے عمدہ کھانے تیار کروا کر کھاتے ہو، اگر تم سادہ کپڑے نہیں پہنتے بلکہ لباس پر بہت سا روپیہ بے جا طور پر صرف کر دیتے ہو اور اس طرح تمہارے پاس کچھ نہیں بچتا تو اگر تم نے تحریک جدید میں سوروپے دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے، سوروپی تم نے وصیت کا دینا ہے اور سوروپے تمہارا چندہ عام ہے تو وہ تین سو روپے تم کہاں سے دو گے؟ جب تم نے اس روپے کے لئے کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی، جبکہ اپنی آمد کے برابر پہلے سے ہی تم خرچ کر رہے ہو تو تم مزید بوجھ کس طرح اٹھا سکتے ہو۔اس صورت میں اگر تم سو یا دوسوروپے کا وعدہ بھی لکھا دیتے ہو تو اس کے یہی معنی ہوں گے کہ تم نے محض نام و نمود کے لئے وعدہ لکھوا دیا۔ورنہ تمہاری نیست شروع سے ہی یہی ہے کہ تم وعدہ پورا نہ کرو۔پس جب تک کھانے اور پینے اور پہننے اور رہائش کے طریق میں تبدیلی نہیں کی جاتی اس وقت تک کسی مالی قربانی کی توفیق نہیں مل سکتی اور اگر تم ان حالات میں کوئی وعدہ کرتے ہو تو تم خدا تعالیٰ سے تمسخر کرتے ہو اور پھر اگر یہ وعدہ میعاد کے اندر پورا بھی ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے پورا ہوگا۔تمہارے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ تم نے اس کیلئے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔پھر جس قسم کی مالی مشکلات میں سے ہمارا سلسلہ گزر رہا ہے ان کی موجودگی میں ہماری موجودہ مالی قربانیاں ہرگز کافی نہیں ہیں اور ہم ان کاموں کو کبھی بھی ایک لمبے عرصہ تک جاری نہیں رکھ سکتے۔اس کے لئے ہمیں اپنے بجٹوں پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا اور ہمیں اپنے طریق تبلیغ پر بھی نظر ثانی کرنی پڑے گی 555