تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 552
خطبه جمعه فرموده 4 فروری 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول سادگی پیدا کرو جو تمہارے اندر مساوات پیدا کر دے، جو تمہارے اندر اخلاق فاضلہ پیدا کر دے ، جو تمہارے اندر الفت و محبت پیدا کر دے اور جو تمہارے اندر برادرانہ اخوت و تعلق پیدا کرنے کا موجب بن جائے تا اس کے بعد ایک طرف سے اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہو تو دوسری طرف سے خود تمہارے اندر ایسی طاقت اور قوت پیدا ہو جائے کہ جو بھی تمہارے سامنے آئے اسے اپنے آگے سے بھگا دو۔دیکھو پہلوان جب اپنے شاگردوں کو کشتی لڑنا سکھاتے ہیں تو گو ان کے شاگر د دس دس بیس بیس ہوتے ہیں مگر وہ اکیلے سب کو گرا لیتے ہیں۔اسی طرح اگر تم بھی مجاہدات کرو گے تو تمہارے اندر ایسی طاقتیں پیدا ہو جائیں گی کہ تم دس دس بیس بیس دشمنوں کا مقابلہ کر سکو گے۔جس طرح دنیوی ریاضات کے نتیجہ میں ایک ایک جسم دس دس جسموں کو گرا لیتا ہے اسی طرح جب روحانی ریاضات کی جاتی ہیں تو اپنی اپنی ریاضت اور اپنے اپنے مجاہدہ کے مطابق کوئی روح دس روحوں کو گرا لیتی ہے، کوئی بیس کو گر الیتی ہے، کوئی پچاس کو گرا لیتی ہے، کوئی س کو گر الیتی ہے، کوئی ہزار کوگر الیتی ہے اور جب کسی قوم میں زبر دست روحانی طاقت وقوت پیدا ہو جائے، اس وقت تعداد کا سوال بالکل اہمیت کھو بیٹھتا ہے۔اس وقت یہ نہیں پوچھا جاتا کہ دشمن ایک کے مقابل پر دس ہیں یا ہیں بلکہ ایسی روحانی طاقت حاصل کرنے والی قوم کے تھوڑے سے آدمی ساری دنیا پر غالب آ جاتے ہیں۔مثل مشہور ہے کہ ایک دفعہ چوہوں نے شور کیا کہ بلی کو پکڑ کر قید کر دیا جائے۔دس ہیں نے کہا کہ ہم اس کا کان پکڑ لیں گے، دس میں نے کہا کہ ہم اس کی دم پکڑ لیں گے، دس ہیں نے کہا ہم اس کی ٹانگوں سے چمٹ جائیں گے۔اس طرح سینکڑوں چو ہے تیار ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ آج بلی آئی تو ہم اسے جانے نہیں دیں گے۔یہ سب باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک بڑے چوہے نے کہا کہ تم سب کچھ پکڑ لو گے مگر یہ تو بتاؤ کے اس کی میاؤں کو کون پکڑے گا ؟ اتفاقاً اسی وقت ایک کونے میں سے ایک بلی کی آواز آئی جو وہاں چھپی بیٹھی تھی۔اس نے ایک میاؤں جو کی تو تمام چو ہے بھاگ کر اپنے اپنے بلوں میں گھس گئے۔غرض انسان کے اندر جب غیر معمولی یقین پیدا ہو جائے تو دنیا اس سے دینے لگتی ہے اور یہ ایک صوفیانہ نکتہ ہے جو تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ انسان کے اندر ایک میں ہوتی ہے۔جب وہ میں پاک ہو جائے تو باقی تمام دنیا کی میں اس کے آگے دب جاتی ہے۔اس وقت جسموں اور تعداد کا کوئی سوال نہیں رہتا بلکہ جس طرح ایک شیر کے مقابلہ میں ہزاروں خرگوش کوئی حقیقت نہیں رکھتے اسی طرح ایسی روحانی طاقت رکھنے والے انسان کے سامنے ہزاروں کیا لاکھوں نفوس بھی محض بے حقیقت ہوتے ہیں کیونکہ وہ روحانیت سے خالی ہوتے ہیں اور انہی لوگوں کو پیدا کرنا ہمارا مقصود ہے۔ہماری اصل غرض نہ ایک کھانا کھانا ہے، نہ سادہ کپڑا 552