تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 551
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء کرے گا تو دین کی خدمت سے محروم رہے گا اور اگر دین کے لئے روپیہ دے گا تولازماً اسے سادہ زندگی اختیار کرنی پڑے گی اور بعض قیود اپنے اوپر عائد کرنی ہوں گی۔پس اس زمانہ میں ان مطالبات پر عمل کرنا بہت زیادہ ضروری ہے اور پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہے۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں جماعت کا ایک بڑا حصہ دیانتداری سے ان احکام پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔امرا میں سے بھی اور غربا میں سے بھی اور بعض ست بھی ہیں۔مجھے بعض امرا ایسے معلوم ہیں جنہوں نے سختی سے ان مطالبات پر عمل کیا ہے اور سادہ زندگی کے متعلق اپنے اوپر قیود عائد کی ہیں اور مجھے بعض ایسے غربا معلوم ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ایک کھانا کھانا! یہ کون سی شریعت کا حکم ہے؟ حالانکہ یہ محض ان کے فائدہ کی بات تھی اور پھر وہ تو پہلے ہی ایک کھانا کھایا کرتے تھے۔انہیں تو چاہئے تھا کہ اس مطالبہ کی تائید کرتے نہ کہ مخالفت مگر انہوں نے مخالفت کی اور اس پر عمل نہ کیا۔گویا ان لوگوں کی مثال جنہوں نے غربا میں سے اس مطالبہ پر عمل نہ کیا ویسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کسی شخص کے دوست کی کتیا نے بچے دیئے۔اسے معلوم ہوا تو وہ اس کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی کتیا نے بیچے دیئے ہیں۔اگر آپ کو تکلیف نہ ہو تو ایک کتیا کا بچہ مجھے دے دیں کیونکہ مجھے مکان کی نگرانی کے لئے اس کی ضرورت ہے۔وہ کہنے لگا کہ بھئی بچے تو مر گئے ہیں لیکن اگر زندہ بھی ہوتے تو میں تمہیں نہ دیتا۔وہ کہنے لگا کہ اب تو خدا نے بچے مار دیئے تھے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ اگر زندہ ہوتے تو بھی نہ دیتا؟ اسی طرح وہ غربا تو پہلے ہی ایک کھانا کھاتے ہیں وہ اگر ایک کھانا کھانے کی ہدایت پر اعتراض کریں تو ان کا اعتراض محض بے وقوفی ہے۔انہیں تو چاہئے تھا کہ وہ امرا کے خلاف شور مچاتے اور کہتے کہ فلاں فلاں امیر اس پر عمل نہیں کرتا اور وہ ایک سے زائد کھانے کھاتا ہے۔نہ یہ کہ وہ اس بات پر اعتراض کرتے جس میں خود انہی کا فائدہ ہے۔اس کے مقابلہ میں میں ایسے امرا کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے بعض ہدایات پر عمل نہیں کیا اور ایسے غربا کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے خاص قربانی کر کے بعض ہدایات پر عمل کیا ہے اور جنہیں مہینوں ایک کھانا کھانے کے بعد جب کسی وقت اتفاقی طور پر دو کھانے ملے تو انہوں نے ایک کھانا ہی کھایا اور دوسرا کھانا چھوڑ دیا۔ان کی قربانی یقینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت شاندار قربانی ہے اور وہ اس کے اجر سے محروم نہیں رہیں گے۔یاد رکھو کہ اس وقت ہمارے ارد گر داتنے ابتلاؤں کے سامان ہیں کہ ہمیں سپاہیانہ طور پر زندگی بسر کرنی چاہئے اور اپنی تمام زندگی کو مختلف قسم کی قیود کے ماتحت لانا چاہئے۔دنیا چاہتی ہے کہ احمدیت کو متادے لیکن خدا یہ چاہتا ہے کہ احمدیت کو قائم کرے اور یقیناً ویسا ہی ہوگا جیسا کہ خدا تعالیٰ کا منشا ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ تم سچے مسلمان بن کر اپنے اندر ایسی 551