تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 545
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء اس کے علاوہ کسی موقعہ پر نہیں اور در حقیقت زیور اپنی ذات میں کوئی ایسی چیز بھی نہیں کہ شادی کے بعد خاص طور پر بنوایا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خاص طور پر زیور بنوانے کا کوئی رواج نہیں تھا ہاں ٹوٹے پھوٹے زیور کی مرمت کی اجازت میں پہلے بھی دے چکا ہوں اور اب بھی وہ اجازت قائم ہے لیکن ٹوٹے پھوٹے زیور بنوانے کے یہ معنی نہیں کہ ایک زیور تڑوا کر دوسر از یور بنوا لیا جائے بلکہ یہ مطلب ہے کہ ٹوٹے ہوئے زیور کی محض مرمت کرائی جائے۔مجھے معلوم ہے کہ عورتیں زیورات کو توڑ پھوڑ کر بعض دفعہ زیور کی قیمت سے بھی زیادہ اس پر خرچ کر دیتی ہیں۔پس تو ڑنے پھوڑنے کی مرمت سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ گلے کا زیور ہاتھ کا بنالیا جائے اور ہاتھ کا زیور گلے کا بلکہ اس سے مراد صرف ٹوٹے ہوئے زیور کی معمولی مرمت ہے تا کہ وہ کام دے سکے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گوزیور کے لئے سونا بھی کم ہوتا تھا مگر اس فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی زیور کا جس قدر رواج تھا کہا جاسکتا ہے کہ سونے کی نسبت سے بھی کم تھا۔اس وقت زیورات کی اتنی کمی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی کے متعلق آتا ہے کہ ان کا زیور محض یہ تھا کہ ان کے پاس ایک ہار تھا جو لونگوں اور بعض دوسرے خوشبودار بیجوں سے بنا ہوا تھا اور وہ بھی کسی سے عاریتاً کیا ہوا تھا۔ہمارے ملک میں بھی بعض زمیندار عورتیں کھوپرے کے ٹکڑوں اور خربوزوں کے بیجوں کے بار بنا لیتی ہیں۔اسی طرح انہوں نے بھی خوشبو کیلئے مختلف قسم کی بیجوں اور لونگوں کو اکٹھا کر کے ایک ہار بنا لیا ہوا تھا۔در حقیقت زیور اقتصادی لحاظ سے ایک نہایت ہی مضر چیز ہے کیونکہ اس میں قوم کا پیسہ بغیر کسی فائدے کے پھنس جاتا ہے اور دراصل یہی وہ سونا چاندی اکٹھا کرنا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جو لوگ سونا چاندی اکٹھا کرتے ہیں قیامت کے دن اس سونا چاندی کو گرم کر کے ان کے جسم پر داغ لگایا جائے گا۔یوں قرآن مجید روپیہ رکھنے کی ممانعت نہیں کرتا۔اگر روپیہ جمع کرنا منع ہوتا تو اسلام میں زکوٰۃ کا مسئلہ بھی نہ ہوتا۔پس روپیہ جمع کرنا منع نہیں بلکہ ایسا روپیہ جمع کرنا منع ہے جو دنیا کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے۔ایک شخص کے پاس اگر دس لاکھ روپیہ ہو اور وہ تجارت پر لگا ہوا ہو تو پانچ دس سولوگ ایسے ہوں گے جو اس کے روپیہ سے فائدہ اٹھا رہے ہوں گے۔پس بڑے تاجر کا روپیہ یا بڑے زمیندار کا روپیہ بند نہیں کہلا سکتا۔مثلاً ایک زمیندار کے پاس اگر دو چار سو ایکڑ زمین ہے تو چونکہ وہ اکیلا اس زمین میں بل نہیں چلا سکے گا اس لئے لازماًوہ اور لوگوں کو نوکر رکھے گا اور اس طرح بارہ تیرہ آدمی بلکہ 545