تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 511
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937ء چندہ ادا کرتا ہے تو گویا وہ خدا تعالیٰ کا گنہگار ہونا تو پسند کرتا ہے لیکن یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ لوگ اس کی طرف انگلی اٹھا ئیں۔حالانکہ جب میں کسی کو معاف کر دوں تو دوسروں کا انگلی اٹھانا یاکسی کو مطعون کرنا محض ظلم ہے۔میں جب کسی کو خوشی سے معاف کردوں تو دوسرے کا کوئی حق نہیں کہ وہ پھر بھی دوسرے پر اعتراض کرے۔پس میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ یہ نہایت ہی اہم کام ہے، ایک عظیم الشان سکیم ہے جو میرے مدنظر ہے۔اگر ان مطالبات میں ہی احباب سنتی دکھانے لگے تو دوسرے مطالبات کس طرح پیش کئے جاسکتے ہیں؟ اسی طرح امانت فنڈ کی طرف میں نے توجہ دلائی تھی۔اس میں بھی اب ستی ہورہی ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ اسے دور کریں۔سادہ زندگی اور ایک کھانا کھانے کے متعلق جو میری تحریک ہے اس پر البتہ جماعت کا بیشتر حصہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے عمل کر رہا ہے۔گو کچھ نہ کچھ کمز ور لوگ ہر جماعت میں موجود ہوتے ہیں۔اسی طرح عورتوں میں ابھی یہ مرض پایا جاتا ہے گو پہلے سے بہت کم ہے۔ایک دوست ایک دفعہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی کا پانچ پانچ سوروپے کا ایک ایک جوڑا ہے۔میں نے کہا اگر چاہوتو ابھی تلاشی لے لو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ بات کس حد تک صحیح ہے۔تو ایسے کمزور لوگ جو بہانے بنا بنا کر اپنے آپ کو اس تحریک کے مطالبات سے آزاد کرنا چاہتے ہیں ان کو چھوڑ کر باقی جماعت نے اچھا نمونہ دکھایا ہے۔چندے کے وعدے بھی اچھے کئے ہیں اور ادا بھی بہت حد تک کیا ہے، امانت فنڈ میں بھی کافی حصہ لیا ہے گو اتنا نہیں جتنی میری خواہش تھی ، سادہ زندگی کی طرف بھی توجہ کی ہے، قادیان میں مکانات بنانے کے متعلق بھی جماعت میں ایک بیدار پائی جاتی ہے گو اتنی نہ ہو جتنی اس وقت ضرورت ہے، قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے بچے بھیجنے کے مطالبہ میں بھی لوگوں نے حصہ لیا ہے، بیرونی ممالک میں نکل جانے کے متعلق بھی جماعت نے اچھا نمونہ دکھایا ہے۔غرض انیس مطالبات میں سے سات آٹھ مطالبے ایسے ہیں جن کو جماعت نے عمدگی سے پورا کیا ہے۔باقی تمام مطالبات ایسے ہیں جن کی طرف جماعت کو ابھی توجہ کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔خصوصاً بے کاری دور کرنے اور اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کے متعلق جو میری نصیحت تھی اس کے مطابق صرف ایک فیصدی کام ہوا ہے اور نانوے فیصدی باقی ہے۔پس ان امور کی طرف میں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں اور انہیں بنا تا ہوں کہ ہر قربانی دوسری قربانی کے لئے ایک زینہ کے طور پر ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص ایک زمینہ پر قدم نہیں رکھتا تو اس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ دوسرے زینہ پر چڑھ سکے۔اس طرح اگر کسی شخص نے ان 511