تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 502

اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول آ پہنچیں۔پس یہ اصل باطل نہیں ہوگا، ہاں اس کی موجودہ شکل بدلتی رہے گی۔اس زمانہ میں ممکن ہے ہم یہ کہہ دیں کہ فلاں فلاں قسم کی لیاقتوں کے لوگ قادیان میں آئیں۔مثلاً وہ جو علوم دینیہ میں ماہر ہوں یا روحانیت رکھنے والے وجود ہوں تا کہ مرکز میں نیکی قائم رہے۔تو تحریک جدید میں کئی چیزیں بے شک عارضی ہیں لیکن اصول وہی رہیں گے اور جب تک قومی ترقی کے لئے اس کی موجودہ شکل ضروری ہے یہ قائم رہے گی اور جب کسی اور شکل کی ضرورت ہوگی وہ قائم کر دی جائے گی۔بہر حال اس وقت وہی شکل ضروری ہے جس شکل میں میں نے آپ لوگوں کے سامنے مطالبات پیش کئے ہیں۔ان مطالبات پر گو جماعت نے ایک حد تک عمل کیا ہے لیکن سولہواں مطالبہ ایسا ہے جس پر ابھی بہت کچھ عمل کرنے کی ضرورت ہے۔پچھلے دنوں ایک دوست جو عیسائی ہیں اور یہاں امتحانوں کے سپرنٹنڈنٹ بن کر آئے تھے مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ آپ کا جو سولہواں مطالبہ تھا اور جس میں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی تاکید تھی اس پر قادیان میں عمل نہیں ہوتا۔میں نے انہیں بتایا کہ میں نے تو خود یہ نیت کی ہوئی ہے کہ اس مطالبہ پر عمل کروں اور جماعت سے کراؤں۔لیکن آپ جن امور کی طرف توجہ دلا رہے ہیں آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ صرف ہماری نیت اور عمل سے درست نہیں ہو سکتے۔ان کے متعلق حکومت کا تعاون بھی ضروری ہے اور وہ ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتی اور اس لئے ہمارے لئے بہت سی مشکلات ہیں۔پھر میں نے انہیں کہا آپ کو اس بارہ میں ایک لطیفہ بھی سنادوں۔ایک دفعہ پادری گارڈن صاحب ڈاکٹر ذویمر صاحب کو لے کر قادیان آئے۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اس وقت زندہ تھے، میری ملاقات سے پہلے انہوں نے ڈاکٹر ذویمر صاحب اور پادری گارڈن صاحب کو قادیان کے بعض مقامات دکھائے۔قادیان کی سیر کرنے کے بعد ڈاکٹر ذویمر کہنے لگے مجھے خواہش تھی کہ میں دیکھوں کہ اسلامی مسیح کی جماعت نے کہاں تک ترقی کی ہے۔کم از کم ظاہری صفائی کے لحاظ سے تو اس کے مرکز نے کوئی ترقی نہیں کی۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم کہنے لگے، ابھی اسلامی مسیح کی حکومت نہیں آئی، پہلے مسیح کی ہی حکومت ہے۔اس لئے قادیان کی صفائی کا الزام پہلے مسیح کی قوم پر ہی آتا ہے۔ابھی تقریر کے دوران میں ایک دوست نے جو امرتسر کے ہیں لکھا ہے کہ ان کے پاس کسی اور دوست نے بیان کیا ہے کہ ان کی بیوی کہتی ہے میں قادیان گئی تو مجھے انہوں نے اپنے گھر میں سات سات کھانے کھاتے دیکھا ہے۔وہ دوست احمدی ہے اور اس کی بیوی بھی احمدی ہے اس لئے میں لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کہنے سے تو رہا، میں یہی کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جھوٹ 502