تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 501
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937ء تحریک جدید کے بعض مطالبات کا ذکر تقریر فرمودہ 28 مارچ 1937ء برموقع مجلس شوری۔اس کے بعد میں دوستوں کو تحریک جدید کی طرف پھر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔آپ لوگ اس وقت اتفاقا یہاں جمع ہیں۔میں خطبات میں تحریک جدید کی طرف جب توجہ دلاتا ہوں تو یہ آپ کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ ان خطبات کو پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن اب جو کچھ میں کہوں گا وہ آپ کو لازماً سننا پڑے گا۔میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ ہر زمانہ کے لحاظ سے کامیابی حاصل کرنے کے کچھ گر ہوتے ہیں جن کو اگر مد نظر نہ رکھا جائے تو کامیابی کی منزل بہت دور ہو جاتی ہے۔وہ گو زمانہ کی ضروریات کے لحاظ سے بدلتے چلے جاتے ہیں مگر ان میں جو تبدیلیاں ہوتی ہیں وہ عارضی حصہ میں ہوتی ہیں، اصول ہمیشہ ایک ہی رہتے ہیں۔مثلاً میں نے تحریک جدید میں ایک مطالبہ جماعت سے یہ کیا ہے کہ قادیان میں اپنے مکان بناؤ۔یہ مطالبہ ایک عارضی مطالبہ ہے جو بعد میں صرف مخصوص لوگوں کے لئے رہ جائے گا اور ہر شخص سے یہ مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔کیونکہ اب تو ضرورت ہے کہ مرکز مضبوط ہو۔پس مرکز کی مضبوطی اور اسے دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ہم تحریک کرتے ہیں کہ دوست یہاں آئیں اور مکان بنائیں۔ہم جب یہ تحریک کرتے ہیں تو سو میں سے ایک دو ایسے نکل آتے ہیں جو قادیان میں مکان بنا لیتے ہیں اور اس طرح اگر پانچ چھ ہزار آدمی بھی قادیان میں مکان بنالے تو اس سے مرکز کی شان و شوکت بڑھ جاتی ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت ساری دنیا میں پھیل گئی اور اربوں لوگ احمدی ہو گئے تو اس وقت اگر ہم یہ تحریک کریں گے کہ قادیان آجاؤ اور اپنے اپنے مکان بناؤ تو پھر اس تعداد کا اگر سواں حصہ بھی آجائے اور پچاس ساٹھ لاکھ یا کروڑ آدمی نے بھی اس آواز پر لبیک کہی تو ان کے لئے قادیان میں گنجائش نہیں ہوگی۔پس یہ تو منشائے الہی اور سنت اللہ کے خلاف ہے کہ اس تحریک کو مستقل طور پر جاری رکھا جائے۔یہ ایک عارضی چیز ہے جو اس وقت تک قائم رہے گی جب تک مرکز مضبوط نہیں ہوتا۔لیکن اس مطالبہ کے ماتحت جو اصل کام کر رہا ہے وہ ہمیشہ قائم رہے گا۔یعنی جہاں بھی اسلام کو مدد کی ضرورت ہو وہاں تم جمع ہو جاؤ اور جس جگہ کے متعلق بھی اسلام چاہتا ہو کہ مسلمان وہاں جائیں اور اپنے بیوت کو قبلہ بنائیں وہاں فورا 501