تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 492

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 3 دسمبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول صرف بارہ صحابی رہ گئے اور پھر ایک ایسار یلا آیا کہ وہ بارہ بھی پیچھے دھکیلے گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے اور کفار نے پتھر مار مار کر آپ کو بے ہوش کر دیا۔اس وقت جو صحابہ آگے بڑھ سکے بڑھے اور شہید ہو ہو کر آپ کے اوپر گرتے گئے اور اس طرح آپ لاشوں کے نیچے دب گئے اور یہ خیال ہو گیا کہ آپ شہید ہو چکے ہیں، لیکن یہ صحابی فتح کے بعد پیچھے ہٹ کر کچھ کھانے میں مشغول ہو گئے تھے اور انہیں ان حالات کا علم نہ تھا۔انہوں نے فتح کے وقت شاید یہ خیال کیا کہ اب تو صرف مال میں سے ہی حصہ لینا باقی ہے۔وہ نہ لیا تو کیا ، وہ بھوکے تھے۔اس لئے ایک طرف جا کر کھجوریں کھانے لگے۔انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ جنگ کا نقشہ پھر بدل گیا ہے۔جب یہ خیال پیدا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا بہادر شخص بھی صبر کھو بیٹھا اور ایک پتھر پر بیٹھ کر بچوں کی طرح رونے لگا۔وہ صحابی ادھر سے گزرے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر کہا کہ عمر کیا بات ہے؟ مسلمانوں کو فتح حاصل ہو چکی ہے اور تم بیٹھے اور ہے ہو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ پتہ نہیں کہ جنگ کا نقشہ بدل چکا ہے اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو چکے ہیں۔اس کے ہاتھ میں اس وقت ایک دو کھجور میں باقی تھیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بات سنی تو کھجور میں پھینک دیں اور کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ پھر یہ رونے کا وقت نہیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے تو اب ہمارا بھی اس دنیا میں کوئی کام نہیں۔چنانچہ انہوں نے تلوار نکال لی اور ہزاروں کے لشکر میں جا گھسے اور شہید ہو گئے۔جب ان کی لاش نکالی گئی تو اس کے ستر ٹکڑے تھے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آخر تک تلوار چلاتے رہے۔اس لئے بیسیوں کافروں نے غصہ میں آکر ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت ان کے متعلق ہے مگر یہ بات غلط ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت کسی خاص آدمی کے لئے ہو جب تک خدا تعالیٰ خود اس کا اظہار نہ کرے مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو اپنی جانیں قربان کر چکے اور بعض اس انتظار میں ہیں کہ کب موقع ملے اور قربان کریں۔( تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے ہزاروں لوگ جماعت میں موجود ہیں۔بے شک بعض کمزور بھی ہیں مگر ایسے بھی ہیں۔جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ یعنی وہ جو اپنے وعدے پورے کر گئے اور ایسے لوگوں کی موجودگی جماعت کی ترقی کا موجب اور فتح کی ضمانت ہے۔وہ لوگ جو اپنے قول کے پکے ہیں جو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے اس کے بعض بندوں کے ہاتھ پر وعدہ کرتے ہیں اور پھر اسے پورا کر کے ہی چھوڑتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جو خدا کے فضل ( الاحزاب : 24) 492