تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 491

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 3 دسمبر 1937ء ہیں۔پھر قادیان کے لوگوں پر جبری قرضہ لگا دیا گیا ہے اور ساتھ امانتیں جمع کرانے کی بھی تحریک ہے اور ایسے وقت میں جب انجمن کے کئی لاکھ کے چندے بھی ہیں پھر بھی دوست کہہ رہے ہیں کہ ہم پہلے سے زیادہ دیں گے۔کیا یہ دہریوں اور بے دینوں کی علامت ہے نہیں، بلکہ یہ چیز بتاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانہ میں جب کہ خدا تعالیٰ پر ایمان بالکل مٹ چکا تھا اور دنیا کو دین پر مقدم کیا جاتا تھا ایک غریب ملک میں جو غیر ملکی لوگوں کے قبضہ میں ہے اور غلام ملک ہے ایک ایسی زندہ جماعت قائم کر دی جو دین کیلئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہے اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔پہلے سال میں نے صرف 27000 روپے کی تحریک تین سال کے لئے کی تھی اور کئی لوگوں نے کہا تھا کہ جماعت یہ روپیہ کہاں سے دے گی اور صدر انجمن احمدیہ کے چندوں کے بقالوں کی وجہ سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ تین سال کے عرصہ میں بھی یہ رقم پوری نہیں ہو سکے گی مگر تحریک پر ایک ہفتہ بھی نہ گزرا کہ جماعت نے 27000 روپیہ نقد جمع کر دیا۔یہ ایک ایسا زندہ نشان موجود ہے کہ جس کی مثال نہیں مل سکتی۔کسی معترض کو یہ نظر آئے یا نہ آئے مگر یہ ایک ایسی بات ہے کہ اگر اسے کسی غیر شخص کے سامنے رکھا جائے تو وہ تسلیم کرے گا کہ ایسے مردہ ملک میں یہ ایک زندہ جماعت ہے۔بیشک میں کہتا رہتا ہوں کہ جماعت سنتی کرتی ہے مگر یہ ستی نسبتی ہے۔دوسروں کے مقابلہ میں سستی نہیں۔میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس معیار کی نسبت سے سستی ہے جس کا خدا تعالیٰ مطالبہ کرتا ہے ورنہ دوسری اقوام کی طوعی قربانیوں سے یہ قربانی بہت بڑھ کر ہے۔(بے شک جماعت کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو فی الواقع سستی کرتا ہے لیکن ایک حصہ ایسا بھی ہے جو قرآن کریم کی اس آیت کا مصداق ہے کہ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ ( الاحزاب : 24) یعنی بعض ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں جان دے چکے ہیں یا یہ کہ اپنی نذریں اور اپنے وعدے پورے کر چکے ہیں اور بعض خدا کی راہ میں مرنے کیلئے یا اپنے وعدوں کو وقت آنے پر پورا کرنے کے لئے منتظر ہیں )۔بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے جو بدر کی لڑائی میں شامل نہ ہوئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے لوگوں کو بتایا نہیں تھا کہ اس موقعہ پر ایسی سخت جنگ ہونے والی ہے اس لئے بعض لوگ شامل نہ ہو سکے۔جب صحابہ رضی اللہ عنہ لڑائی سے واپس آئے اور لڑائی کے حالات سنائے۔تو ایک صحابی جو انصاری تھے اور بڑے مخلص تھے وہ سنتے اور انہیں رہ رہ کر غصہ آتا اور بار بار کہتے کہ کاش میں وہاں ہوتا اور تمہیں بتاتا کہ میں کیا کرتا۔سننے والے خیال کرتے تھے کہ انہیں یوں ہی غصہ آرہا ہے۔آخر احد کی لڑائی کا وقت آگیا اور پھر اس لڑائی کا وہ موقعہ آیا، جب ایک غلطی کی وجہ سے فتح کے بعد اسلامی لشکر تر بتر ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد 491