تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 484

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 3 دسمبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول مخلص جماعت عربوں کی بھی ایسی دے دی ہے جو چندہ دیتی ہے اور ان کا چندہ اب یہاں بھی آنا شروع ہو گیا ہے اور امید ہے کہ وہاں جلد تر ترقی ہوتی جائے گی، کیونکہ وہاں ایک خاصی تعدا د عربوں کی ہے جو سلسلہ کی طرف متوجہ ہیں۔ان کے علاوہ چین میں، جاپان میں اور سٹریٹ سیٹلمنٹ میں بھی ہمارے مشن قائم ہو چکے ہیں اور دو دو مبلغ وہاں کام کرتے ہیں اور پھر مصر اور افریقہ میں بھی مبلغین پہنچ چکے ہیں اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنے خرچ پر ہی کام کر رہے ہیں یا برائے نام امداد لیتے ہیں اور بعض تو گئے بھی اپنے خرچ پر ہیں۔جن مبلغوں کو خرچ جاتا ہے انہیں بھی ہماری ہدایت ہے کہ خرچ بہت کم کریں۔ان کے علاوہ کچھ مشن ہندوستان میں بھی تحریک جدید کے ماتحت قائم ہیں۔مثلاً ویروال ضلع امرتسر میں یا مکیریاں ضلع ہوشیار پور میں۔ایک مشن کراچی میں ہے۔ان میں بعض لوگ برائے نام گزارہ پر کام کرتے ہیں اور باقی جماعت کے دوست مہینہ مہینہ یا بیس بیس یا دس دس دن جا کر کام کرتے ہیں۔ان مشنوں کے علاوہ انگریزی لٹریچر کی ضرورت کو بھی پورا کیا جارہا ہے۔دو انگریزی اخبار ایک سن رائز لاہور سے اور ایک مسلم ٹائمنر لنڈن سے شائع ہوتے ہیں۔ان میں سے بالخصوص سن رائز کی ضرورت اور اہمیت کو بہت محسوس کیا جارہا ہے اور یہ پر چھا اگر چہ ہمیں قریباً مفت ہی دینا پڑتا ہے مگر فائدہ بہت ہے۔امریکہ سے نو مسلمین نے لکھا ہے کہ یہ اخبار بہت ضروری ہے اور اسے پڑھ کر ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ بھی جماعت کا ایک حصہ ہیں۔خصوصاً اس میں جو خطبہ جمعہ کا ترجمہ ہوتا ہے وہ ہمارے لئے ایمانی ترقیات کا موجب ہے۔پہلے ہم یوں سمجھتے تھے کہ ہم جماعت سے کٹے ہوئے الگ تھلگ ہیں مگر اب خطبہ پہنچ جاتا ہے اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم بھی گویا جماعت کا ایک حصہ ہیں۔اسکے علاوہ کتا بیں بھی شائع کی جاتی ہیں۔پہلے احمدیت کو شائع کیا گیا اور دو تین کتابیں اس سال بھی شائع کی جارہی ہیں۔قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ جس کے لئے مولوی شیر علی صاحب ولایت گئے ہوئے ہیں اس کیلئے بھی تحریک جدید سے ایک معقول رقم علیحدہ کر دی گئی ہے۔اس کے علاوہ غربا کیلئے کارخانے بھی جاری کئے گئے ہیں تا یتامی اور مساکین بچے تو پاسکیں۔اس وقت ہیں بائیس ایسے طالبعلم ہیں جن میں سے بعض کا تو تمام خرچ ہمیں برداشت کرنا پڑتا ہے اور بعض کو امداد دینی پڑتی ہے اور ان کیلئے دینی تعلیم کا سارا خرچ ہمیں کرنا پڑتا ہے۔یہ ایک مستقل کام ہے جسے تین سال کے بعد چھوڑا نہیں جاسکتا۔پھر ابھی تک کئی ممالک ایسے ہیں جہاں مبلغ پہنچنے چاہئیں مگر نہیں پہنچے۔مومن کسی نیک کام کو شروع کر کے بند نہیں کرتا بلکہ اسے بڑھاتا ہے اور یہی نیت میری ہے اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو ہر ملک میں مشن قائم کر دیئے جائیں اب تک تو صرف یہ کوشش کی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچا دیا جائے اور اس میں بعض نا تجربہ کار تعلیم 484