تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 457
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 15 نومبر 1937ء تحریک جدید۔قرآن کریم میں موجود ہے خطبہ جمعہ فرمود : 15 نومبر 1937 ء۔۔۔۔۔دوسرا امر جس کی طرف میں توجہ دلاتا ہوں یہ ہے کہ تحریک جدید کے تین سال اب ختم ہور ہے ہیں۔جب میں نے یہ تحریک شروع کی تھی اس وقت جماعت کے لئے ایک نیا صدمہ تھا اور دوستوں کیلئے یہ ایک حیرت انگیز بات تھی کہ گورنمنٹ کے بعض افسر بھی ہمارے خلاف ہو گئے تھے۔اس نے ان کی آنکھیں کھول دی تھیں اور انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ ہمارا یہ خیال غلط ہے کہ ہمارے لئے ہی مقدر ہے کہ ہم امن سے اپنا کام کرتے جائیں گے۔سرکاری حکام کا یہ سلوک اس قدر آنکھیں کھولنے والا تھا کہ بہت سے سوئے ہوئے بیدار ہو گئے اور لازمی طور پر ہماری بیداری کے ساتھ ہمارے دشمن بھی بیدار ہوئے خواہ وہ حکام میں سے تھے اور خواہ دوسرے مولویوں میں سے انہوں نے باہر سے بھی ہم پر حملے کرنے شروع کئے اور اندرونی طور پر بھی ہم میں سے بعض کو اپنے ساتھ ملانا چاہا Divide and Rule ایک پر انا اصول حکمرانی ہے۔رومن حکومت کی بنیاد اس اصول پر تھی یعنی محکوموں میں با ہم تفریق پیدا کرو اور ان پر حکومت کرتے جاؤ اور بعض انگریز سیاستدانوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی حکومت کی بنیاد بھی اسی اصول پر ہے۔چنانچہ اس اصول کے ماتحت ہم میں سے بعض لوگوں کے اندر بھی منافقت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی چنانچہ پنجاب کے جیلوں کے ایک بڑے افسر کے ذریعہ بالواسطہ طور پر مجھے معلوم ہوا یعنی اس نے ایک معزز احمدی افسر کو بتایا ہے کہ احرار کے ایک اہم اور ذمہ دار قیدی نے اسے 35ء میں کہا کہ یہ مت خیال کرو۔قادیان کے خلاف ہماری تحریک ناکام ہوئی ہے بلکہ ہم نے ان میں سے ہیں پچھپیں آدمی اپنے ساتھ ملالئے ہیں اور اس طرح جماعت کے اندر تفرقہ پیدا کر چکے ہیں یہ 1935ء کی بات ہے مگر یہ تدبیریں انہوں نے انسانوں کی طاقت کا اندازہ کر کے کی تھیں خدائی طاقتوں کا ان کو علم نہ تھا انسانی طاقتوں کو نقصان پہنچانے کیلئے یہ اصول بے شک صحیح ہے مگر خدائی طاقتوں کیلئے نہیں کیونکہ خدائی طاقتوں کی جڑ خود خدا تعالیٰ ہوتا ہے اور انسان محض فروع ہوتے ہیں اور جب درخت کی جڑ کٹ جائے تو اسے نقصان پہنچتا ہے لیکن شاخیں کاٹنے سے اکثر درخت پھیلتا ہے بلکہ بعض درخت تو ترقی ہی اس طرح کرتے ہیں کہ ان کی شاخیں 457