تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 443

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطاب فرمودہ 17 جون 1937ء 66 قتل کا تھا۔حضرت مسیح موعود کی عادت تھی کہ اس قسم کے واقعات میں بچوں کو بھی دعا کے لئے فرما دیا کرتے تھے۔مجھ سے بھی کہا کہ دعا کرو۔میں نے دعا کی اور انہی ایام میں ایک رؤیا دیکھا۔ہمارے گھر میں ایک تہہ خانہ تھا جس کی تنگ سی سیڑھیاں تھیں۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں باہر سے آرہا ہوں۔جب میں گھر کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے سامنے چند پولیس والے کھڑے ہیں اور مجھے اندر جانے سے روکتے ہیں۔میں نے باہر سے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود اندر بیٹھے ہیں اور پولیس کے آدمی آپ کے اردگرد اوپلوں کا ڈھیر لگا رہے ہیں اور وہ ڈھیر اس قدر اونچا ہو گیا کہ حضور اس کے پیچھے اوجھل ہو گئے ہیں۔پھر وہ اس ڈھیر کو دیا سلائی سے آگ لگانا چاہتے ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ آگ کو بجھاؤں۔ایک سپاہی نے دیا سلائی جلائی مگر وہ نہ جلی۔اس نے پھر جلائی لیکن پھر بھی نہ جلی۔پھر جلائی پھر بھی نہیں جلی۔غرض وہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ آگ لگا ئیں اور میں اس کوشش میں ہوں کہ بجھاؤں۔اس کے بعد یکدم میری نظر ایک فقرہ پر پڑی جو یہ تھا ” خدا کے پیاروں کو کون جلا سکتا ہے۔مجھے اب یہ یاد نہیں رہا کہ پیاروں تھا یا ماموروں۔بہر حال ان میں سے ایک لفظ تھا۔جو نہی یہ فقرہ میں نے پڑھا اسی وقت حضرت مسیح موعود با ہر نکل آئے اور میری آنکھ کھل گئی۔پس مومن مصیبتوں سے ڈرا نہیں کرتے اور نہ مصیبتیں ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں۔خدا تعالیٰ جب مومن کو ابتلا میں ڈالتا ہے اور وہ اسے بخوشی جھیلنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا صلہ اس جہان میں یا اگلے جہان میں ضرور دیتا ہے لیکن وہ جو جھوٹا ہوتا ہے اور جس کے دل میں ایمان نہیں ہوتا وہ نہ اس جہان میں کامیاب ہوتا ہے اور نہ اگلے جہان میں اسے کوئی صلہ ملتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ قربانیوں کا صلہ اس جہان میں ملے۔پس جو شخص سمجھتا ہے کہ اس نے فلاں فلاں قربانیاں کی ہیں مگر اسے اس جہان میں اس کا صلہ نہیں ملا۔وہ حقیقی ایمان سے محروم ہے وہ قربانیاں کرتا ہے لیکن وہ دن جس کی شام کو اس کے لئے جنت کے دروازے کھلنے والے ہوتے ہیں اپنے اوپر بند کر لیتا ہے۔کس قدر بد بخت ہے وہ انسان کہ جب اس کی محنتوں کے پھل لانے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں سے اسے ضائع کر دیتا ہے۔خدا کی راہ میں ہمیشہ وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو ہر قسم کے ڈر اور خوف سے بالا ہواور جو یہ فیصلہ کرے کہ خواہ اسے اس دنیا میں صلہ ملے یا نہ ملے اور خواہ وہ دکھ سہتے سہتے مرجائے۔وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف برداشت سے مونہہ نہیں موڑے گا۔کتنا نادان ہے وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ اسی دنیا میں اسے بدلہ ملنا چاہئے۔اگر یک شخص یہاں تمام عمر تکالیف اٹھاتا ہے لیکن آخرت میں اسے نہایت عمدہ صدیل جاتا ہے تو یہاں کی تکلیف س صلہ کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی اور وہ شخص گھاٹا پانے والا نہیں۔پس اپنے اندر استقلال کی 443